سہارنپور: مسجد کی مسماری کے بعد کمیٹی کو ہی کروڑوں روپے ہرجانے کا نوٹس ! یوپی حکومت سے جواب طلب

الہ آباد ہائی کورٹ نے مغربی اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کے انہدام کے بعد انتظامیہ کی جانب سے مسجد کمیٹی پر عائد کیے گئے 6.41 کروڑ روپے کے بھاری ہرجانے کی وصولی پر عبوری روک لگا دی ہے۔ جسٹس روہت رنجن اگروال پر مشتمل سنگل بینچ نے یہ حکم مسجد کمیٹی کے نمائندے محمد تنویر احمد کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر سماعت کے بعد جاری کیا۔ عدالت عالیہ نے معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے اتر پردیش حکومت اور سہارنپور کی ضلعی انتظامیہ کو تفصیلی جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے لیے تین ہفتوں کی مہلت دی ہے۔

سہارنپور کے سٹی مجسٹریٹ نے سولہ جولائی 2026 کو پبلک پریمیسز (بے دخلی غیر مجاز قابضین) ایکٹ 1971 کے تحت حکم جاری کرتے ہوئے مسجد کی زمین کو سرکاری اراضی قرار دیا تھا اور مسجد کمیٹی پر کروڑوں روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ اس کے بعد پانچ ستمبر کو انتظامیہ نے عدالتی کارروائی کے بعد مسجد کے ڈھانچے کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا۔ اس انہدام کے فوراً بعد کمیٹی سے ہرجانے کی خطیر رقم وصول کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا، جسے مسجد کمیٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔

درخواست گزار کے وکیل آشیش کمار سنگھ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے یہ کارروائی غیر معمولی جلد بازی میں انجام دی۔ بے دخلی کے احکامات جاری ہونے کے محض تین دن کے اندر عبادت گاہ کو زمین بوس کر دیا گیا، جس سے فریقِ مخالف کو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا مناسب وقت نہیں ملا۔ عرضی گزار کے مطابق یہ مسجد تقریباً ایک صدی سے اسی اراضی پر قائم تھی اور اس کے اصل مالکان یعقوب خان اور وحید خان نے اس اراضی کو اسلامی احکام کے تحت وقف کر دیا تھا، لہٰذا اسے ناجائز قبضہ یا تجاوزات قرار دینا تاریخی اور دستاویزی حقائق کے منافی ہے۔

دوسری جانب اتر پردیش حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل منیش گوئل نے دعویٰ کیا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق زیرِ بحث زمین کلکٹریٹ کے انتظام میں رجسٹرڈ ہے۔ سرکاری وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ درخواست گزار وقف کے نفاذ کی کوئی مصدقہ تاریخ یا وقف نامہ بطور ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور خود کو اصل مالک کہنے والے افراد نے کبھی عدالت سے رجوع نہیں کیا۔ حکومت نے دلیل دی کہ سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کے ازالے کے لیے ہرجانہ نافذ کرنا قانونی تقاضا تھا۔

فریقین کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد جسٹس روہت رنجن اگروال نے مشاہدہ کیا کہ صدی پرانے ڈھانچے کی ملکیت، وقف کی حیثیت اور بلڈوزر کارروائی کے طریقہ کار سے جڑے پہلو تفصیلی قانونی جائزے کے متقاضی ہیں۔ ہائی کورٹ نے واضح ہدایت دی کہ کیس کی اگلی سماعت تک سٹی مجسٹریٹ سہارنپور کے حکم کے تحت 6.41 کروڑ روپے کے ہرجانے کی وصولی پر مکمل روک برقرار رہے گی۔

ریاست میں تاریخی عمارتوں اور عبادت گاہوں کے خلاف تجاوزات مخالف مہم کے طریقہ کار پر طویل عرصے سے اقلیتی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے سے قبل عجلت میں کیے جانے والے انہدام اور اس کے بعد لگائے جانے والے بھاری مالی جرمانوں کو معاشی دباؤ کی ایک صورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں۔