مہاراشٹر کے خطہ مراٹھواڑہ میں مون سون کی طویل غیر حاضری اور بارش کی شدید کمی کے باعث کسان اور عام شہری سنگین بحران کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ خشک سالی کے منڈلاتے خطرات کے سائے میں جمعہ کے روز ناندیڑ کے قدوائی نگر واقع تاریخی بڑی عیدگاہ میں نمازِ استسقاء کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ دوپہر ساڑھے تین بجے منعقد ہونے والے اس روح پرور اجتماع میں شہر اور قرب و جوار کے دیہی علاقوں سے ہزاروں افراد نے شرکت کی تاکہ بارانِ رحمت کے نزول کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور اجتماعی فریاد پیش کی جا سکے۔
عیدگاہ کے وسیع میدان میں عیدین جیسا روح پرور منظر دیکھنے کو ملا، جہاں دیکھتے ہی دیکھتے پورا میدان نمازیوں سے بھر گیا اور لوگوں کو اطراف کی خالی جگہوں پر صفیں درست کرنا پڑیں۔ اسلامی روایات کی روشنی میں لوگ اپنے بزرگوں، معصوم بچوں اور بے زبان مویشیوں کو ساتھ لے کر میدان میں پہنچے تاکہ کمزوروں اور معصوم جانوں کا وسیلہ پیش کر کے ربِ کریم کی رحمت کو متوجہ کیا جا سکے۔ سخت دھوپ اور حبس کے باوجود نمازیوں کے چہروں پر عاجزی، ندامت اور امید کے ملے جلے تاثرات نمایاں تھے۔
نماز کی امامت معروف عالمِ دین مولانا سعد عبداللہ ندوی نے کی۔ باجماعت نماز سے قبل انہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے آسمانی بارش رکنے کے دینی اور اخلاقی اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسان کے اعمال، ناانصافیوں اور حقوق کی پامالی سے جب زمین پر برائیوں کا غلبہ ہوتا ہے تو قدرتی برکات اور پانی جیسی بنیادی نعمتیں چھن جاتی ہیں۔ انہوں نے نصیحت کی کہ یہ وقت محض الفاظ کی حد تک دعا مانگنے کا نہیں بلکہ اپنے معاملات کی درستی، مظلوموں کے حقوق ادا کرنے اور سچی توبہ کے ذریعے اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا ہے۔
خطاب کے بعد دو رکعت نمازِ استسقاء ادا کی گئی، جس کے فوراً بعد مولانا سعد عبداللہ ندوی نے لرزتی ہوئی آواز میں رقت آمیز اجتماعی دعا کرائی۔ دعا کے دوران پورا عیدگاہ میدان آہوں، سسکیوں اور ہچکیوں سے گونج اٹھا۔ بوڑھے، نوجوان اور بچے جھولیاں پھیلائے، آنسو بہاتے ہوئے گناہوں کی بخشش اور فصلوں کو تباہی سے بچانے کے لیے بارش طلب کر رہے تھے۔ یہ مناظر خطے میں زرعی تباہی کے حقیقی خوف اور غیبی مدد کی شدید طلب کا منہ بولتا ثبوت تھے۔
ہزاروں کے اس جمِ غفیر کو سنبھالنے اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ’خادمینِ امت‘ کے رضا کاروں اور پاکیزہ نگر کے نوجوانوں نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ رضاکاروں نے وضو، پینے کے ٹھنڈے پانی کی فراہمی اور نماز کے بعد پرامن واپسی کے تمام انتظامات مکمل نظم و ضبط کے ساتھ سنبھالے، جس کی بدولت اتنے بڑے اجتماع کے دوران کسی قسم کی بدنظمی دیکھنے میں نہیں آئی۔




