ورزش سے پہلے اسمارٹ فون کا استعمال نقصان دہ

ورزش، کھیلوں کے مقابلوں یا کسی بھی اہم سرگرمی سے قبل اسمارٹ فون پر سوشل میڈیا اسکرولنگ انسانی اعصاب کو تھکا کر جسمانی صلاحیت میں نمایاں گراوٹ کا سبب بنتی ہے۔ ڈنمارک کی سرکاری کھیلوں کی تنظیم ‘ٹیم ڈنمارک’ سے وابستہ اسپورٹس فزیولوجسٹ لارس جوہانسن کی سربراہی میں سامنے آنے والے چار سالہ طویل مشاہداتی نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ کسی جسمانی آزمائش سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا کا استعمال نہ صرف ذہنی چستی چھین لیتا ہے بلکہ پٹھوں کی کارکردگی اور حوصلے پر بھی براہ راست منفی اثر ڈالتا ہے۔

سائنسی جریدوں میں سنہ 2022 سے شائع ہونے والے مطالعات کے تجزیے کے دوران ماہرین نے ایتھلیٹس کے دو الگ الگ گروپوں کا تقابلی جائزہ لیا۔ تحقیق میں ایک گروپ کو سخت جسمانی فٹنس ٹیسٹ سے محض تیس منٹ قبل سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، جبکہ دوسرے گروپ نے ٹیلی ویژن پر پرسکون روایتی پروگرام دیکھے۔ نتائج انتہائی حیران کن رہے، سوشل میڈیا فیڈز دیکھنے والے افراد کی مجموعی صلاحیت میں دس فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی جو فٹنس اسکور میں سیدھے طور پر چار فیصد کی گراوٹ کے مساوی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ اتنی ہی مہلک اور فوری نوعیت کی ہے جتنا اثر کسی سخت ورزش سے چند لمحے پہلے تین سے چار سگریٹ نوش کرنے سے انسانی تنفس اور دورانِ خون پر پڑتا ہے۔ ڈنمارک کی معروف اولمپک ایتھلیٹ میڈلین ڈوپونٹ نے اس تجربے کی تائید کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی مقابلوں اور سخت ترین تربیتی مراحل کے دوران ان کی ٹیم نے خود پر سوشل میڈیا کی پابندی عائد کی، جس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کے ارتکاز اور میدان میں توانائی کی سطح میں غیر معمولی بہتری دیکھی گئی۔

تحقیق کاروں نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے بدلتی معلومات، رنگین مناظر اور غیر متوقع مواد دراصل دماغ کے اس حصے پر بوجھ ڈالتے ہیں جو فیصلہ سازی اور توانائی کے اخراج کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب انسان موبائل کی اسکرین پر انگلیاں چلاتا ہے تو بظاہر جسم آرام کر رہا ہوتا ہے لیکن دماغ شدید اعصابی مشقت سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس مسلسل سرگرمی کی وجہ سے دماغ جسمانی اعضاء کو مکمل شدت سے کام کرنے کا سگنل دینے میں ناکام رہتا ہے۔

اس انکشاف کا اطلاق صرف پیشہ ور کھلاڑیوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ عام نوجوانوں، دفتر جانے والے افراد اور طلبہ پر بھی ہوتا ہے۔ چاہے صبح کی چہل قدمی ہو، شام کا جم سیشن، ملازمت کا اہم انٹرویو یا کوئی تعلیمی امتحان، اسکرین پر وقت گزاری کے فوری بعد انسان کی قدرتی توجہ اور جسمانی قوت ماند پڑ جاتی ہے۔ ماہرین مکمل بائیکاٹ کے بجائے ایک متوازن لائحہ عمل کی وکالت کر رہے ہیں تاکہ جدید زندگی کے تقاضے بھی پورے ہوں اور انسانی صحت بھی داؤ پر نہ لگے۔

صحت کے ماہرین نے تجویز دی ہے کہ کسی بھی بڑے امتحان، بھرپور ورزش یا چیلنجنگ سرگرمی سے کم از کم دو سے تین گھنٹے قبل سوشل میڈیا ایپس کے استعمال سے مکمل اجتناب برتا جائے۔ یہ احتیاط اعصاب کو پرسکون رہنے کا وقت دیتی ہے اور انسان اپنی حقیقی جسمانی اور ذہنی استعداد کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے قابل رہتا ہے۔

شیئر کریں۔