چینی صدر شی جن پنگ برکس تنظیم کے 18ویں سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہفتے کی صبح نئی دہلی پہنچ گئے۔ سنہ 2019 کے بعد چینی صدر کا تقریباً سات برسوں میں یہ پہلا دورہ بھارت ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی باضابطہ دعوت پر بیجنگ سے روانہ ہونے والے چینی وفد میں کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین رہنما کائی چی اور وزیر خارجہ وانگ یی سمیت بااثر سفارتی شخصیات شامل ہیں۔ مشرقی لداخ میں پیش آنے والے تلخ سرحدی تنازع کے بعد دونوں ہمسایہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو پٹری پر لانے کے تناظر میں اس دورے کو انتہائی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے نئی دہلی آمد سے قبل واضح کیا کہ چین دونوں رہنماؤں کی اسٹریٹجک رہنمائی کے تحت باہمی تعلقات کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب دونوں ممالک کے سربراہان آمنے سامنے بیٹھیں گے، جس کا مقصد ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا اور سرحدی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنا ہے۔ چینی قیادت برکس کو ترقی پذیر ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے حقوق کی پاسداری کا مضبوط فورم قرار دے رہی ہے۔
تاریخی اعتبار سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات سنہ 2020 میں وادی گلوان کے تصادم کے بعد شدید کشیدگی اور سفارتی تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ صدر شی نے آخری بار اکتوبر 2019 میں تمل ناڈو کے تاریخی مقام ماملاپورم میں غیر رسمی ملاقات کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ طویل سرد مہری کو ختم کرنے کے لیے حالیہ مہینوں میں فوجی اور سفارتی سطح پر مسلسل پیش رفت ہوئی، جس کے تحت بیجنگ میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان مذاکرات کے دوران بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے آٹھ نکاتی اتفاق رائے طے پایا تھا۔ اب ان اعلیٰ سطحی کوششوں کی حتمی توثیق دونوں رہنماؤں کی نئی دہلی ملاقات میں دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی سطح پر یوکرین اور روس کے درمیان طویل تنازع اور مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران و امریکہ کشیدگی کے سائے میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے وسیع سیاسی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایشیا کی دو بڑی معیشتوں کا باہمی تنازعات کم کر کے معاشی رابطوں کو بحال کرنا خطے کے استحکام، تجارتی توازن اور کثیر قطبی نظام کی بقا کے لیے ناگزیر مانا جا رہا ہے۔ خلیجی اور مشرق وسطیٰ کی معیشتوں، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران شامل ہیں، کی برکس میں شمولیت نے تنظیم کے اقتصادی وزن کو دگنا کر دیا ہے۔
بارہ اور تیرہ ستمبر کو منعقد ہونے والے اس دو روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر بھارت اپنی صدارت کی مدت مکمل کرتے ہوئے قیادت باضابطہ طور پر چین کے سپرد کر دے گا۔ بیجنگ کی نئی صدارت کے دوران بین الاقوامی مالیاتی نظام میں مقامی کرنسیوں کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے نفاذ کا لائحہ عمل طے پائے گا۔ توقع ہے کہ دونوں سربراہان کے درمیان طے پانے والے فیصلے سرحد پر مستقل امن اور دونوں ممالک کے معاشی مفادات کو ایک نئی سمت فراہم کریں گے۔




