اسلام قبول کرنے والے ایوش ملک کو عدالت میں پیش کیاجائے : آلہ باد ہائی کورٹ کا حکم

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے حکام اور پولیس کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ذریعے مبینہ طور پر حبس بے جا میں رکھے گئے نوجوان آیوش ملک کو سولہ ستمبر کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔ عدالت نے یہ حکم ایک حبس بے جا (ہ Habeas Corpus) کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دیا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ نوجوان کو اس کی مرضی کے خلاف خاندان نے غیر قانونی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔

یہ سارا تنازع مغربی اتر پردیش کے ضلع شاملی سے شروع ہوا تھا۔ آیوش ملک نے اپنا مذہب تبدیل کر کے محمد علی نام اختیار کیا اور ایک مسلم خاتون چاندنی قریشی سے دہلی میں نکاح کر لیا۔ اس شادی اور تبدیلی مذہب کے بعد لڑکی اور اس کے والد کے خلاف اتر پردیش کے غیر قانونی تبدیلی مذہب کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں کو کئی ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑے۔

نوجوان کے والد کا دعویٰ تھا کہ ان کے بیٹے کو سنہ 2023 میں دباؤ ڈال کر اور خاندانی جائیداد حاصل کرنے کی غرض سے اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ دوسری جانب خود آیوش ملک نے عوامی سطح پر یہ بیان دیا تھا کہ اس نے اپنی آزاد مرضی سے مذہب تبدیل کیا ہے۔ بعد ازاں کچھ متضاد خبروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ وہ دوبارہ اپنے پرانے مذہب میں واپس آ گیا تھا، تاہم اس دوران اس کی گمشدگی اور ممکنہ اسیری کا معاملہ سامنے آ گیا۔

آیوش کے دوست سلطان کی جانب سے دائر کی گئی حبس بے جا کی عرضی میں عدالت کو بتایا گیا کہ نوجوان کو اس کے والد نے پولیس اور ریاستی مشینری کی مبینہ مدد سے زبردستی قید کر رکھا ہے اور اسے اپنی مرضی سے جینے کا حق نہیں دیا جا رہا۔ عرضی گزار کے مطابق نوجوان کی جان اور بنیادی آزادی خطرے میں ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس سندیپ جین نے مشاہدہ کیا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوجوان نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف جا کر مذہب تبدیل کیا اور نکاح کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی شہری کی غیر قانونی حراست کا معاملہ فوری نوعیت کا ہے اور اس پر قانونی وضاحت ناگزیر ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر سولہ ستمبر کو آیوش ملک کو پیش نہ کیا گیا تو متعلقہ حکام کو ٹھوس وجوہات بتانی ہوں گی اور یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ اس کی حفاظت اور بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین المذاہب شادیاں اور تبدیلی مذہب کے قوانین قانونی، سماجی اور انسانی حقوق کے دائرے میں شدید بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ شخصی آزادی، بالغان کے اپنی مرضی سے شادی کرنے کے حق اور ریاستی مداخلت کے درمیان توازن کو لے کر اب سب کی نظریں سولہ ستمبر کی عدالتی کارروائی پر ٹکی ہیں۔

شیئر کریں۔