ممبئی(فکروخبرنیوز) مہاراشٹر میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر / SIR) کے پروسیس کے دوران ایک تشویشناک اور بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ‘دی انڈین ایکسپریس’ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، ریاست کی 38 ایسی اسمبلی نشستوں پر جہاں مسلم آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہے، تقریباً 30 فیصد ووٹرس کے نام ابتدائی ڈرافٹ لسٹ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان 38 حلقوں میں 37 لاکھ سے زائد ووٹرس (سابقہ ووٹر بیس کا 29.7 فیصد) کے فارمز کو ‘ناقابل وصول’ (Uncollectable) قرار دے کر لسٹ سے باہر کیا گیا ہے۔ یہ شرح پوری ریاست کی اوسط حذف شرح 21.1 فیصد سے کہیں زیادہ ہے، جس کے تحت ریاست بھر میں مجموعی طور پر 2 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس، شیڈولڈ کاسٹ (SC) کی محفوظ نشستوں پر ووٹ خارج ہونے کی اوسط شرح 19.6 فیصد اور شیڈولڈ ٹرائب (ST) کی نشستوں پر محض 13.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے مسلم اکثریتی علاقوں میں نام خارج کیے جانے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ بھیونڈی ایسٹ میں 49.1 فیصد، بھیونڈی ویسٹ میں 44.7 فیصد اور کالوا-ممبرا میں 42.9 فیصد ووٹرس کے نام لسٹ سے نکالے گئے ہیں۔ اسی طرح چندی ولی میں 41.4 فیصد اور مانخورد شیواجی نگر میں 42.3 فیصد ووٹرس کو لسٹ سے باہر کیا گیا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا خارج کیے گئے افراد میں صرف ایک خاص طبقہ شامل ہے یا تمام کمیونٹیز کے لوگ۔
حذف شدہ فارمز کو ‘مستقل منتقل شدہ’، ‘متوفی’، ‘غیر حاضر’، ‘ڈپلیکیٹ’ یا ‘دیگر’ کی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایس آئی آر کے آغاز سے ہی اپوزیشن جماعتوں اور شہری حقوق کی تنظیموں کی جانب سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس طریقہ کار سے اصل اور قانونی ووٹرز کے نام خارج ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے مئی میں ایس آئی آر کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا تھا لیکن واضح کیا تھا کہ اس مشق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن کسی شخص کی ہندوستانی شہریت کا فیصلہ کرے۔




