نئی دہلی :ہندوستان میں صارفین کا بازار اب ایک بالکل نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ملک کی سب سے نوجوان نسل، جسے ‘جین-زی’ (Gen-Z) کہا جاتا ہے، معیشت کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔ ‘بوسٹن کنسلٹنگ گروپ’ (BCG) کے اعداد و شمار کے مطابق، 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے تقریباً 37.7 کروڑ نوجوان ملک کے مجموعی اخراجات کے 43 فیصد حصے یعنی تقریباً 860 ارب ڈالر کے اخراجات کا تعین کر رہے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس نسل کے بیشتر افراد ابھی کوئی کام یا ملازمت نہیں کر رہے۔ مجموعی تعداد کا صرف چوتھائی حصہ ہی فی الوقت ملازمت یا کاروبار سے وابستہ ہے، اس کے باوجود مارکیٹ کے رخ اور اصول اسی نسل کے انتخاب کے مطابق طے پا رہے ہیں۔ موجودہ 860 ارب ڈالر کے کل اخراجات میں سے 660 ارب ڈالر ان کی اپنی براہِ راست کمائی کے بجائے ان کا ‘متاثرہ خرچ’ (Influenced Spend) مانا جاتا ہے، یعنی مصنوعات، ایپس یا برانڈز کا انتخاب نوجوان کرتے ہیں جبکہ ان کی ادائیگی ان کے والدین کی طرف سے کی جاتی ہے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ سال 2030 تک اس نسل کے 36 فیصد لوگ باضابطہ طور پر روزگار سے منسلک ہو جائیں گے اور 2035 تک ان کے سالانہ اخراجات دوگنے ہو کر 2 ٹریلین (2000 ارب) ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اب کھانے پینے کی اشیا کے مقابلے لائف اسٹائل، برانڈڈ جوتوں، فیشن، آؤٹ ڈور ڈائننگ، سیاحت اور او ٹی ٹی سبسکرپشنز پر زیادہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ صرف شاپنگ ہی نہیں بلکہ یہ نوجوان شیئر مارکیٹ اور میوچوئل فنڈز میں بھی بڑی سطح پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جہاں نئے کھاتوں میں 30 سال سے کم عمر افراد کی حصہ داری 50 فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔




