امریکہ: موہن بھاگوت کے دورے سے قبل امریکی کمیشن کا آر ایس ایس رہنماؤں پر پابندی کا مطالبہ

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے متوقع دورۂ امریکہ سے قبل امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ آر ایس ایس رہنماؤں کے ساتھ کسی بھی قسم کے اعلیٰ سطحی روابط اور سفارتی مراعات سے سختی سے گریز کرے۔ کمیشن نے ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تناظر میں، ذمہ دار افراد اور اداروں پر فوری اور ہدفی پابندیاں عائد کرنے کی باقاعدہ سفارش کی ہے۔

یو ایس سی آئی آر ایف کے چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی خود آر ایس ایس کے ایک سرگرم رکن ہیں۔ ان کے مطابق آر ایس ایس ایک انتہائی وسیع تنظیم ہے جس سے وابستہ کئی شدت پسند گروہوں پر اقلیتوں کے خلاف منظم حملوں کے مسلسل الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب جبکہ تنظیم کے سربراہ موہن بھاگوت امریکہ کے دورے کی تیاری کر رہے ہیں، امریکی حکومت کو انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے اپنا مؤقف سخت کرنا چاہیے۔ کمیشن کی ایک اور عہدیدار جین ملز نے بھی اس مطالبے کی بھرپور تائید کی اور کہا کہ امریکی حکام کو مذہبی آزادی سلب کرنے کے ذمہ دار افراد کے اثاثے منجمد کرنے اور سفارتی مراعات روکنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

کمیشن نے اپنی دو ہزار چھبیس کی سالانہ پالیسی رپورٹ میں امریکی حکومت سے سفارش کی ہے کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے مخدوش حالات کے پیش نظر اسے خاص تشویش کا حامل ملک قرار دیا جائے۔ اس جامع دستاویزی رپورٹ میں واضح طور پر آر ایس ایس کا نام شامل کرتے ہوئے تجویز دی گئی ہے کہ ان افراد اور اداروں کے امریکہ میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ کمیشن نے یہاں تک مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ مستقبل کی امریکی سیکوریٹی معاونت، اسلحے کی فروخت اور دو طرفہ تجارتی پالیسیوں کو مذہبی آزادی میں بہتری کے ساتھ مشروط کیا جائے تاکہ اقلیتوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کا سدباب ہو سکے۔

حالیہ رپورٹ میں اس بات کی خاص طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ سال دو ہزار پچیس کے دوران ہندوستان میں مذہبی رواداری میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ہندو قوم پرست ہجوم کی جانب سے مسلمانوں اور عیسائیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح پر قانون سازی کے ذریعے بھی اقلیتی اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان متنازعہ اقدامات میں دو ہزار پچیس کا وقف قانون اور اتراکھنڈ میں نافذ کیا گیا یونیفارم سول کوڈ شامل ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی تبدیلی کے خلاف بنائے گئے سخت قوانین کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جو اس وقت ملک کی اٹھائیس میں سے بارہ ریاستوں میں نافذ ہیں اور جنہیں اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان سخت سفارشات کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اور امریکی کانگریس ہندوستان اور آر ایس ایس کے حوالے سے کیا عملی پالیسی اختیار کرتی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مسلم کمیونٹی اس پیش رفت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ اقدامات جنوبی ایشیا میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے جمہوری و آئینی حقوق کی بحالی کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یو ایس سی آئی آر ایف امریکی حکومت کا ایک بااختیار اور خود مختار وفاقی ادارہ ہے جسے انیس سو اٹھانوے کے بین الاقوامی مذہبی آزادی قانون کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی کام دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتحال کی غیر جانبدارانہ نگرانی کرنا اور امریکی صدر، وزیر خارجہ اور کانگریس کو انسانی حقوق کی بنیاد پر پالیسی تجاویز پیش کرنا ہے۔

شیئر کریں۔