ممبئی میں آوارہ کتوں کی دہشت: ایک سال میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد بنے نشانہ

ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی کی سڑکوں پر آوارہ کتوں کی دہشت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کا پیدل چلنا محال ہو چکا ہے۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ہوشربا اعداد و شمار کے مطابق، سال دو ہزار پچیس میں ایک لاکھ چون ہزار سے زائد شہریوں کو آوارہ کتوں نے اپنا شکار بنایا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال پر قابو پانے کے لیے شہری انتظامیہ پر سخت دباؤ ہے اور اب نئے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سنگین شہری مسئلے پر بی ایم سی ہاؤس میں تمام سیاسی جماعتوں کے کونسلرز نے شدید ہنگامہ کیا اور کارپوریشن کے طریقۂ کار پر سوالات کھڑے کیے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے کونسلر کیلاش پاٹھک نے ایوان میں اس معاملے کو سختی سے اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی کہ شہر میں اسکولی بچوں، خواتین اور بزرگوں پر آوارہ کتوں کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ میونسپل کارپوریشن آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے کے لیے ہر سال کروڑوں روپے پانی کی طرح بہاتی ہے، لیکن زمینی حقیقت جوں کی توں ہے۔

اجلاس کے دوران اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بی ایم سی کے اسپتالوں میں ریبیز ویکسین کی قلت کی مسلسل خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ویکسین کی بروقت عدم دستیابی کی وجہ سے کتوں کے کاٹنے کا شکار ہونے والے غریب اور عام شہریوں کی زندگیاں براہ راست خطرے سے دوچار ہیں۔ شہری نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صحت عامہ کے اس بحران پر فوری توجہ دی جائے اور ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

بڑھتے ہوئے عوامی غصے اور کونسلرز کی تنقید کے بعد بی ایم سی کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر اویناش ڈھاکنے نے انتظامیہ کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ ممبئی کو دو ہزار تیس تک مکمل طور پر ریبیز سے پاک بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن نے شہر میں چھ نئے ڈاگ شیلٹرز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ نئے ڈاگ شیلٹرز ایرولی، مالونی، مُلنڈ، ماہُل، آنِک اور بی پی ٹی کے علاقوں میں بنائے جائیں گے تاکہ آوارہ کتوں کی مؤثر طریقے سے دیکھ بھال اور آبادی کو کنٹرول کیا جا سکے۔

شہری انتظامیہ کے اس نئے منصوبے کے تحت بی ایم سی کے تمام اسپتالوں میں ریبیز کی ویکسین چوبیس گھنٹے دستیاب کرائی جائے گی اور شہر بھر میں آوارہ کتوں کی نس بندی مہم کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اس منصوبے پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہری انتظامیہ کے یہ دعوے اور کاغذی منصوبے عملی شکل اختیار کر کے ممبئی کے عوام کو خوف و ہراس سے حقیقی راحت فراہم کر پاتے ہیں یا نہیں۔

شیئر کریں۔