بھٹکل میں عمائدین و میڈیا نمائندوں کی ساتھ خصوصی نشست
بھٹکل(فکروخبرنیوز) منگلور سے نکلنے والے مشہور وارتا بھارتی اخبار کو قائم ہوئے تیئیس سال ہوچکے ہیں اور اب سلور جوبلی تقریب کے لیے منصوبہ بندی شروع ہوچکی ہے۔ اس موقع پر وارتا بھارتی کے ایڈیٹر انچیف جناب عبدالسلام پتگے اور اہم ذمہ داران میں جناب یاسین ملپے ، سی ای او جناب محمد مسلم اور ان کی پوری ٹیم نے بھٹکل کا دورہ کیا اور مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل میں تنظیم کے ذمہ داران ، عمائدین اور میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کی۔
جناب عبدالسلام پتگے نے کہا کہ ہمارا سفر 2003 سے شروع ہوا اور پہلا اخبار منگلور سے نشرہوا۔ الحمدللہ اب چار اضلاع منگلور ، بنگلور ، شیموگہ اور کلبرگی سے نکل رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجٹیل پلیٹ فارم سے بھی لاکھوں افراد ہم سے جڑے ہوئے ہیں۔ کل ملا کر 25 لاکھ روزانہ کے ویورس ہیں ۔ وارتا بھارتی نے اس مدت میں جو خدمات انجام دی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ان تیئیس سالوں میں وارتا بھارتی کے سامنے بڑے چیلینجز آئے حتی کہ اخبار نکالنے کے لیے اس کی عمارت کو ہی فروخت کرنا پڑا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس دوران ہم نے اللہ کی مدد اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ ایسے دن بھی دیکھے کہ کل کے اخبار کے لیے ہمارے پاس کوئی چیز نہیں تھی لیکن ان حالات میں اللہ نے ہماری مدد کی۔ انہوں نے شروعاتی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت وہ تھا جب لوگ یہ کہتے تھے کہ اخبار نکالنا آسان نہیں، یہ چٹان سے ٹکرانے کے مترادف ہے لیکن اللہ کے فضل سے ہم یہاں تک پہنچے ہیں اور امید ہے کہ اسی کے فضل سے یہ سفر جاری رہے گا۔
جناب یاسین ملپے نے وارتا بھارتی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ تیس سال قبل جب اس ارادہ کو لے کر ہم اٹھے تو ہمارے پاس کسی طرح کی سہولیات نہیں تھی لیکن حوصلہ تھا اور ملت کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ تھا۔ اس دور میں میڈیا مسلمانوں کے خلاف اتنا نہیں تھا جتنا آج کے دورمیں ہے لیکن مخالفت اس زمانے میں بھی تھی اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کا سلسلہ جاری تھا۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کے پاس صرف اخبار پڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ہم نے کوشش کی اور چھ سال تک مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں اورکئی ورکشاپ منعقد کیے تب جاکر ایک ٹیم تیار ہوئی جنہوں نے اس وارتا بھارتی کے کام کو اپنا کام سمجھا اور صحافتی میدان میں اپنی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مختلف مثالوں کے ذریعہ اس بات پر روشنی ڈالی کہ وارتا بھارتی کے آنے کے بعد کس طرح دیگر اخبار کے خبریں دینے کا طریقہ بدلا اور کس طرح ہمارے اخبار نے اسلام ، مسلمانوں اور پچھڑے طبقات کے خلاف جاری ظلم کا جواب دیا۔ آج کے دور میں یہ ہر مظلوم کی آواز بن چکا ہے اور ہر طبقہ اس سے امید لگائے ہوئے بیٹھا ہوا ہے۔ خصوصی طورپر مسلمانوں سے جڑے مسائل مختلف مواقع پر اٹھائے جس کے ثمرات عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ فی الحال کرناٹک بھر میں پرنٹ میڈیا میں وارتا بھارتی کا نمبر 5 ہے اور ڈیجیٹیل میڈیا میں کرناٹک بھر میں الحمدللہ پہلے نمبر پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وارتا بھارتی نے اپنے اصولوں کے ساتھ کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ایسے مواقع بھی آئے کہ حکومت کی جانب سے ملنے والے کروڑوں کے اشتہار بند ہوگئے لیکن اپنے اصولوں سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی طرح دیگر کمپینوں کے اشتہار میں بھی بعض اصول ایسے سخت ہیں کہ ہم اس کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اب پچیسویں سال میں داخل ہونے پر مختلف پروگرام لانچ کرنے کا ارادہ ہے جس کے لیے ملت کے لوگوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔
صدر انجمن حامی مسلمین بھٹکل جناب یونس قاضیا نے اپنے تأثرات کے اظہار دوران کہا کہ ہم نے جناب عبدالسلام پتگے صاحب جیسا دلیر شخص زندگی میں نہیں دیکھا۔ اس سفر کے دوران ان کے ساتھ مختلف حالات آئے اور جس طرح وہ حالات کے سامنے ڈٹے رہے اس کی داد دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ تیس سال پہلے اسی تنظیم میں وارتا بھارتی کے قیام کے سلسلہ میں میٹنگ ہوئی تھی اور آج تیس سال بعد تنظیم ہی میں اس کو آگے لے جانے کے لیے لائحہ عمل پر غور ہورہا ہے۔ انہوں نے میڈیا کی اہمیت اور اس کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات میں میڈیا کی ضرورت بڑھ گئی ہے اور پہلے سے زیادہ اس کی اہمیت مسلمانوں میں پیدا ہوگئی ہے۔ ہمیں اس کام کو مزید آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر جناب عنایت اللہ شاہ بندری نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے وارتا بھارتی کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
تنظیم کے جنرل سکریٹری مولانا عزیز الرحمن رکن الدین ندوی نے پروگرام کی غرض و غایت پیش کی اور نظامت کے فرائض انجام دیے
ان کے علاوہ نائب صدر تنظیم جناب قمر سعدا اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
جناب اقبال بنگالی کی تلاوت سے شروع ہونے والا یہ پروگرام دعائیہ کلمات کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔
واضح رہے کہ یہ پروگرام تنظیم کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔




