بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران اہل ووٹرز کے نام ووٹر فہرست سے خارج کیے جانے کے خدشات کے درمیان سول سوسائٹی اور مختلف شہری تنظیموں نے ریاستی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ معروف اداکار پرکاش راج کی قیادت میں ’ایڈلو کرناٹک‘ سمیت مختلف تنظیموں کے نمائندہ وفد نے ودھان سودھا میں نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کی اور تفصیلی یادداشت پیش کرتے ہوئے SIR کے عمل کو مزید شفاف بنانے اور اہل ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
وفد نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام ASDDO فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جس سے حقیقی اور اہل ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ تنظیموں کے مطابق اس وقت ریاست میں تقریباً 1.09 کروڑ ووٹرز ASDDO زمرے میں شامل ہیں، جبکہ بنگلورو سمیت بعض علاقوں کے تقریباً 3,000 پولنگ بوتھوں پر 60 فیصد سے زائد ووٹرز کو حذف یا تصدیق کے زمرے میں ڈالے جانے کی اطلاعات تشویش کا باعث ہیں۔ وفد نے اسے شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے حوالے سے سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مؤثر مداخلت کی اپیل کی۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن سے SIR کے عمل کے لیے کم از کم تین ماہ کی توسیع طلب کی جائے اور مکمل و شفاف تصدیق کے لیے مناسب وقت فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ بوتھ لیول افسران (BLOs) کو پابند کیا جائے کہ کسی بھی ووٹر کو ’منتقل شدہ‘، ’غیر حاضر‘ یا دیگر زمرے میں ڈالنے سے قبل گھر گھر جاکر اس کی تصدیق کریں۔ وفد نے منتقل ہونے والے ووٹرز کے لیے نئے پتے کے اندراج کی سہولت، نئے اہل ووٹرز کے ناموں کی شمولیت اور غلطی سے خارج ہونے والے ناموں کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔
شہری تنظیموں نے حکومت سے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن ان مطالبات پر مثبت کارروائی نہیں کرتا تو ریاستی حکومت اس معاملے کو اسمبلی میں اٹھائے، مرکزی الیکشن کمیشن سے رجوع کرے اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے شہریوں کے جمہوری و آئینی حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔




