بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کی جانب سے جاری ووٹر فہرستوں کی خصوصی شدید نظرِ ثانی (Special Intensive Revision – SIR) اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم اس عمل کے دوران ریاست میں ایک نیا تنازع بھی کھڑا ہو گیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے 1.11 کروڑ ووٹرز، یعنی مجموعی ووٹرز کا 20.04 فیصد، ASDDO (Absent, Shifted, Dead, Duplicate and Others) زمرے میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سول سوسائٹی کی 40 تنظیموں کے اتحاد "مائی ووٹ، مائی رائٹ” (My Vote, My Right) نے چیف الیکٹورل آفیسر وی انبوکمار کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ASDDO فہرست فوری طور پر عوام کے لیے جاری کرنے اور SIR کی مدت 30 ستمبر تک بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، 2002 کی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر جانچ کے دوران 5.54 کروڑ ووٹرز میں سے 1.11 کروڑ افراد کو ASDDO زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے تقریباً 50 لاکھ ووٹرز صرف بنگلورو اربن ضلع کے چار اسمبلی حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ اس سے قبل اتر پردیش میں 19.09 فیصد اور گجرات میں 14.45 فیصد ووٹرز اس زمرے میں شامل کیے گئے تھے۔
اپنے مکتوب میں "مائی ووٹ، مائی رائٹ” نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ASDDO زمرے میں شامل کیے گئے بیشتر ووٹرز کو نہ تو کوئی پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی ایس ایم ایس کے ذریعے آگاہ کیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرست کی درستگی اور شفافیت کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے، اس کا بوجھ ووٹروں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ بوتھ وار ASDDO فہرست وجوہات کے ساتھ سرکاری ویب سائٹ پر شائع کی جائے اور ممکنہ غلطیوں کی اصلاح کے لیے 30 ستمبر تک مہلت دی جائے۔
دوسری جانب، چیف الیکٹورل آفیسر وی انبوکمار نے وضاحت کی ہے کہ ASDDO فہرست سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس (BLAs) کی موجودگی میں پنچنامہ (محضر) کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے اور اس پورے عمل میں مقررہ انتخابی ضابطوں پر عمل کیا گیا ہے۔




