ہندوستان میں مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) یعنی تجارتی فیس کو دوبارہ لاگو کرنے کی سمت پیش رفت شروع ہو گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں ملک کے ادائیگیوں سے متعلق قوانین میں ترمیم کے لیے ایک نیا بل پیش کیا گیا ہے، جس سے مقبول عام یو پی آئی (Unified Payments Interface) کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں پر مرچنٹ فیس عائد کرنے کی قانونی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ وزیر خزانہ نسیہتہ سیتارمن نے ‘پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ’ (Payment and Settlement Systems Act) میں ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کی، جس کے بعد ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں اہم تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
ہندوستان کا یو پی آئی دنیا کے سب سے بڑے اور تیز ترین ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نیٹ ورکس میں شمار ہوتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، صرف جولائی کے مہینے میں اس پلیٹ فارم کے ذریعے 23.6 بلین (تقریباً 23 ارب 60 کروڑ) سے زائد ٹرانزیکشنز ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 29.9 ٹریلین روپے (تقریباً 313.5 ارب ڈالر) سے زیادہ تھی۔ اس مارکیٹ پر امریکی کپمنی والمارٹ کے زیرِ ملکیت فون پے (PhonePe) اور الفابیٹ کے گوگل پے (Google Pay) کا بڑا قبضہ ہے۔
طویل عرصے سے فن ٹیک کمپنیوں اور بینکنگ انڈسٹری کی جانب سے یہ مطالبات سامنے آ رہے تھے کہ مفت سروس کی وجہ سے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری کرنا اور اس کی ترقی کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) وہ فیس ہوتی ہے جو تاجر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ کے عوض بینکوں اور ادائیگی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ادا کرتے ہیں۔ اس وقت ہندوستان میں کریڈٹ کارڈز پر تقریباً 1.5 فیصد اور ڈیبٹ کارڈز پر 0.9 فیصد تک ایم ڈی آر لاگو ہے، جبکہ یو پی آئی ٹرانزیکشنز تاجروں کے لیے مکمل طور پر مفت رہے ہیں۔
دستیاب رپورٹس اور ذرائع کے مطابق، قانونی بنیاد فراہم کرنے کے باوجود فیس کی شرح اور اس کے دائرہ کار کے حوالے سے حتمی فیصلہ لیا جانا باقی ہے۔ پالیسی سازوں کے سامنے دو اہم تجاویز زیرِ غور ہیں۔ پہلی تجویز کے تحت مخصوص رقم سے زائد کی رقم پر فیس وصول کی جائے گی، جبکہ دوسری تجویز کے تحت تاجر کے سالانہ ٹرن اوور کو بنیاد بنایا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بڑی تجویز یہ ہے کہ جن تاجروں کا سالانہ ٹرن اوور 1.5 کروڑ روپے سے زائد ہے، ان پر 2,000 روپے سے اوپر کی رقم کی یو پی آئی ادائیگیوں پر 0.3 فیصد سے 0.5 فیصد تک ایم ڈی آر لاگو کیا جائے۔ تاہم، عام صارفین اور چھوٹے دکانداروں یا تاجروں کے لیے یو پی آئی سروسز کو بلا معاوضہ رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2,000 روپے سے زائد کے ٹرانزیکشنز تعداد کے لحاظ سے کل حجم کا صرف 4 فیصد ہیں، لیکن مجموعی مالیاتی مالیت کے اعتبار سے یہ تمام ادائیگیوں کا تقریباً 67 فیصد بنتے ہیں۔
اس قدم سے فن ٹیک کمپنیوں اور بینکوں کو مالی استحکام ملنے کا امکان ہے، لیکن اس سے بڑے تاجروں اور کاروباری اداروں کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر تاجر اس اضافی لاگت کو صارفین پر منتقل کرتے ہیں، تو اشیاء و خدمات کی قیمتوں پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ سے اس بل کی منظوری اور ریزرو بینک نیز وزارتِ خزانہ کے حتمی رہنما خطوط کے بعد ہی اس پالیسی کے نفاذ کی واضح صورتحال سامنے آ سکے گی۔




