کرناٹک کی سیاست میں اس وقت بڑا زلزلہ آ گیا ہے جب حکمراں جماعت کانگریس کے دو سینئر ارکانِ اسمبلی نے ریاستی کابینہ کی توسیع میں جگہ نہ ملنے پر احتجاجاً اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ پیر کے روز نئے وزرا کی حلف برداری کی تقریب سے چند گھنٹے قبل انڈی (Indi) اسمبلی حلقے سے ایم ایل اے یشونت رائے گوڑا وی پاٹل اور ساگر (Sagar) حلقے سے ایم ایل اے بیلور گوپال کرشنا نے قانون ساز اسمبلی سے اپنے استعفے پیش کر دیے، جس سے وزیراعلیٰ ڈی کے شوکمار کی قیادت والی حکومت کے لیے شدید سیاسی بحران اور اندرونی دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یشونت رائے پاٹل نے ودھان سودھا پہنچ کر ڈپٹی اسپیکر روڈراپا لاما نی کو اپنا استعفیٰ سونپا۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی بنگلورو میں ان کے حامیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور پارٹی قیادت پر ناانصافی کا الزام لگاتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور مظاہرہ کیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد بیلور گوپال کرشنا نے بھی اسمبلی کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کر دیا، جس سے کانگریس کے اعلیٰ کمان اور ریاستی قیادت کے لیے نۓ وزرا کی حلف برداری کی تقریب کا جشن بدمزہ ہو گیا۔
استعفیٰ دینے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے یشونت رائے پاٹل نے انتہائی دکھ اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح تک ان کا نام نۓ وزرا کی فہرست میں شامل تھا اور انہیں اس سلسلے میں اطلاع بھی دی گئی تھی، لیکن پارٹی کی جانب سے جاری کردہ حتمی فہرست میں سے ان کا نام اچانک غائب کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل پارٹی کے اندرونی حالات کا مشاہدہ کر رہے تھے اور بالآخر اعلیٰ قیادت نے ان سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ محض عہدے کے لیے نہیں لڑ رہے بلکہ یہ ان کی خودداری کا معاملہ ہے، اور کانگریس میں اب وفاداری و ایمانداری کی کوئی قدر نہیں رہی۔
پاٹل نے مزید انکشاف کیا کہ ۲۰۲۳ء کے اسمبلی انتخابات سے قبل ہی ان سے وزارتی عہدے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن حکومت کی تشکیل کے وقت انہیں ڈھائی سال بعد موقع دینے کا دلاسا دیا گیا۔ اب جب کابینہ کی توسیع ہوئی تو انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ۸؍ الیکشن لڑنے والے ایک پختہ سیاست داں ہیں اور اس طرح کی وعدہ خلافی ان کے حلقے کے ووٹروں کی توہین ہے، جس کی وجہ سے وہ پارٹی چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
یہ سیاسی پس منظر اس وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعلیٰ ڈی کے شوکمار کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے تقریباً دو ماہ بعد لوک بھون میں ۲۰ نۓ وزرا کو شامل کر کے کابینہ کی بڑی توسیع کی جا رہی تھی۔ تاہم، اس توسیع کے نتیجے میں پارٹی کے اندر دہائیوں سے قائم دھڑے بندی اور دیرینہ رہنماؤں کی ناراضگی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ کئی دیگر سینئر قانون ساز بھی اپنی عدم شمولیت پر ناخوش بتائے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان دو استعفوں سے کرناٹک اسمبلی میں کانگریس حکومت کی عددی اکثریت پر تو فوری طور پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا، لیکن پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط اور سیاسی استحکام کو گہرا دھچکا لگا ہے۔ اگر اعلیٰ قیادت نے برہم ارکان اور ان کے حامیوں کو منانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے تو ان دو استعفوں کے اثرات ریاست کے دیگر اضلاع اور متوقع سیاسی مساوات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔




