مدھیا پردیش کی سیاست میں ایک نیا اور حساس باب اس وقت کھل گیا جب ریاستی حکومت نے تنازعات اور اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود ‘یکساں شہری کوڈ’ (UCC) بل ۲۰۲۶ کو اسمبلی سے منظور کرا لیا۔ جمعرات کے روز اندور میں مختلف عوامی پروگراموں کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مدھیا پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو نے دعویٰ کیا کہ یہ قانون ریاست کے تمام مذاہب اور طبقات کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نیا قانون شادی، طلاق اور وراثت جیسے پرسنل لا سے جڑے معاملات میں تمام شہریوں پر بلا تفریق مذہب و ملت یکساں طور پر لاگو ہوگا، چاہے وہ ہندو ہوں، مسلم ہوں یا عیسائی۔
اسمبلی میں بل پیش کیے جانے کے دوران کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے زبردست ہنگامہ آرائی کی اور حکومت پر اقلیتی طبقات بالخصوص مسلمانوں کے پرسنل لا اور مذہبی آزادی میں براہ راست مداخلت کا الزام لگایا۔ تاہم اپوزیشن کے شور شرابے کے درمیان حکومت نے اس اہم اور متنازع بل کو زبانی ووٹ کے ذریعے پاس کرا لیا۔ اس بل کے پاس ہونے کے ساتھ ہی مدھیا پردیش ملک کی ان چند مخصوص ریاستوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جہاں تمام شہریوں کے لیے ایک ہی سول قانون لاگو کرنے کی سمت پیش قدمی کی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع اور وزیراعلیٰ کا دعویٰ ہے کہ اس قانون سازی سے قبل ایک وسیع مشاورت کی گئی تھی، جس کے تحت تقریباً دو ماہ کے دوران ۳.۵ کروڑ سے زائد لوگوں تک رسائی حاصل کی گئی اور ۱۰ لاکھ سے زائد تجویزات و آراء وصول کرنے کے بعد قانون کا حتمی مسودہ تیار کیا گیا۔ تاہم اقلیتی اور مسلم تنظیموں کی جانب سے اس عمل اور اس کے اندرونی مندرجات پر شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ مسلم قانون دانوں اور سماجی رہنماؤں کے مطابق، بھارت کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہبی اور ثقافتی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دیتا ہے، جبکہ پرسنل لا میں اس نوعیت کی یکطرفہ تبادلہ خیالات یا یکسانیت اقلیتوں کے مذہبی اور آئینی حقوق کو متاثر کر سکتی ہے۔
اقلیتی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی مسلمان اور دیگر مذہبی اقلیتیں اپنے آئینی حقوق کے تحت اپنے مذہبی احکامات پر عمل پیرا ہیں، اور بغیر اتفاق رائے کے یو سی سی کا نفاذ ان کے اندر بے اعتمادی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ جمہوری اور قانونی حلقوں میں بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کثرت پسندی (Pluralism) والے ملک میں جہاں ہر خطے اور مذہب کے اپنے روایتی اور مذہبی قوانین ہیں، وہاں زبردستی کی یکسانیت لانا ملک کے تنوع اور ہم آہنگی کے لیے کس حد تک سود مند ثابت ہو گا۔
مذہبی و سیاسی امور کے ماہرین کے مطابق، یو سی سی کی منظوری محض ایک قانونی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے سماجی اور سیاسی اثرات دور رس ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں اس قانون کے مختلف دفعات کو عدالت عالیہ یا عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیے جانے کے واضح امکانات موجود ہیں، کیونکہ اقلیتی طبقہ اس اقدام کو اپنے بنیادی آئینی اور مذہبی تحفظات پر حملہ تصور کر رہا ہے۔




