سیکولرزم کا نعرہ یا صرف سیاسی اسٹنٹ؟ ہندو راشٹرا کی وکالت کرنے والے بابا دھیریندر شاستری کا استقبال کرنے پرتلنگانہ حکومت تنقید کی زد میں

حیدرآباد میں تلنگانہ کے نائب وزیرِ اعلیٰ ملّو بھٹی وکرمارکا کی سرکاری رہائش گاہ پر ‘باگیشور دھام’ کے متنازع رہنما دھیریندر کرشنا شاستری کی آمد اور ان کے پرُتپاک استقبال نے ریاست سمیت ملکی سطح پر ایک نیا سیاسی اور نظریاتی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ حیدرآباد کے نجی مذہبی پروگرام میں شرکت کے لیے پہنچے دھیریندر شاستری کا نائب وزیرِ اعلیٰ اور ان کے اہل خانہ نے روایتی انداز میں استقبال کیا، انہیں شال اوڑھائی، تروملا کے بھگوان وینکٹیشور کی تصویر اور ایک روایتی بیل گاڑی کا ماڈل بطور تحفہ پیش کیا۔ تاہم، اس ملاقات کی تصاویر عام ہوتے ہی اپوزیشن جماعتوں، سماجی تنظیموں اور مسلم برادری کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دھیریندر کرشنا شاستری، جو مسلسل بھارت کو ‘ہندو راشٹر’ بنانے کی کھلے عام وکالت کرتے رہے ہیں اور ماضی میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف کئی متنازع اور اشتعال انگیز بیانات دے چکے ہیں، ان کی کانگریس کے اتنے سینئر رہنما کی طرف سے پذیرائی پر شدید اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان نے اس قدم کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ خود کو سیکولرازم کی سب سے بڑی محافظ بتانے والی پارٹی کے سینئر رہنما نے ایک ایسے شخص کا سرکاری سطح پر اعزاز کیسے کیا جو آئین ہند کے برعکس ہندو راشٹر کے نظریے کو فروغ دیتا ہے؟ امجد اللہ خان نے کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو چیلنج کیا کہ اگر وہ اپنے سیکولر اصولوں پر قائم ہیں تو بھٹی وکرمارکا کو فوراً نائب وزیراعلیٰ کے عہدے سے برطرف کریں اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کریں۔

اس تمام تنازع میں مسلم مسائل پر بے باکی سے بولنے کا دعویٰ کرنے والی حیدرآباد کی مقامی سیاسی جماعت کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کی پراسرار خاموشی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس کے ساتھ سیاسی مفاہمت کے باوجود مجلس کی جانب سے اس حساس معاملے پر اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، جسے سیاسی تجزیہ کار انتخابی حکمت عملی یا سیاسی مصلحت قرار دے رہے ہیں۔

کانگریس پارٹی جو ہمیشہ سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اکثریت پسند سیاست کے خلاف آئین اور کثرت پسندی (Pluralism) کے تحفظ کی مدعی رہی ہے، اس قسم کے اقدامات سے شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ الیکشن میں اقلیتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سیکولرازم کی دہائی دینا اور حکومت میں آنے کے بعد اکثریت پرستی کی تسکین کے لیے ایسے علامتی اقدامات کرنا کانگریس کے نرم ہندوتوا کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ صورتحال خاص طور پر ان مسلمان ووٹرز کے لیے تشویشناک ہے جو کانگریس کو بی جے پی کا ایک آئینی متبادل سمجھ کر حمایت دیتے رہے ہیں۔ اگر ہر بڑی سیاسی جماعت اکثریت پسند بیانیے کو اپنانے کی دوڑ میں شامل ہو جائے گی تو ملک میں حقیقی سیکولر سیاست کی گنجائش مزید سکڑ جائے گی۔ آئینی اقدار اور سیکولرازم محض انتخابی تقریروں کا نعرہ نہیں ہو سکتے، بلکہ انہیں عمل سے ثابت کرنا ہوگا ورنہ اقلیتوں میں سیاسی تنہائی اور بے اعتمادی کا احساس مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔

شیئر کریں۔