سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور 5 بار کے ایم ایل اے عالم بدیع اعظمی کاانتقال

اتر پردیش کی سیاست کا ایک باوقار باب ختم ہو گیا۔ سماجوادی پارٹی کے سینئر ترین رہنما اور ضلع اعظم گڑھ سے پانچ مرتبہ رکن اسمبلی (ایم ایل اے) منتخب ہونے والے عالم بدیع اعظمی کا ۹۰ برس کی عمر میں لکھنؤ کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے عمر رسیدہ بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کے باعث زیرِ علاج تھے، جہاں جمعرات کو انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی اتر پردیش بالخصوص اعظم گڑھ اور سماجوادی پارٹی کے کارکنوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

عالم بدیع اعظمی کا شمار اتر پردیش کی سیاست کی ان نایاب شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی سادگی، شفافیت اور عوامی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ اعظم گڑھ کے نظام آباد اور دیگر حلقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے پانچ مرتبہ ایوان میں عوام کے مسائل، تعلیمی بیداری اور سڑکوں سے لے کر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر آواز بلند کی۔ اپنے اصولوں اور شائستہ گفتگو کی وجہ سے وہ نہ صرف اپنی پارٹی بلکہ مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں میں بھی انتہائی قابل احترام سمجھے جاتے تھے۔

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے عالم بدیع اعظمی کے رحلت پر شدید غم و رنج کا اظہار کرتے ہوئے اسے پارٹی اور اتر پردیش کی عوامی سیاست کے لیے ایک ناپائیدار نقصان قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے ہمیشہ سماجی انصاف، مظلوموں کے حقوق اور اقلیتوں و پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا۔ اکھلیش یادو نے ان کی سادگی اور بے لوث عوامی وابستگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ان کے انتقال پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے سینئر لیڈروں، سماجی تنظیموں اور مقامی عوام نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کی سیاست میں عالم بدیع اعظمی جیسے دیانت دار، نرم خو اور عوامی مسائل سے جڑے لیڈر کا چلے جانا ایک ایسا خلا پیدا کرتا ہے جسے پر کرنا مشکل ہوگا۔

مرحوم کی آخری رسومات اور تدفین ان کے آبائی علاقے میں ادا کی جائے گی، jahan ہزاروں کی تعداد میں سوگواران، سیاسی رہنما اور عام شہری شرکت کر کے اپنے محبوب لیڈر کو آخری الوداع کہیں گے۔

شیئر کریں۔