کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر وزیر اعظم ملک کی سائنسی کامیابیوں بشمول مریخ مشن اور کھیلوں میں ملنے والے تمغوں کا کریڈٹ لیتے ہیں، تو انہیں ملک میں ہونے والے 152 پیپر لیک، طلبہ پر لاٹھی چارج اور ان کے مستقبل سے کھلواڑ کی ذمہ داری بھی لینی چاہیے۔
پرینکا گاندھی نے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک کی جمہوری تاریخ میں یہ شاید پہلی بار ہو رہا ہے کہ حکومتی ارکان پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت ایوان کی کارروائی چلانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں جاری طلبہ کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر نکلنے والے نوجوان دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے تاریک ہوتے مستقبل کو بچانے کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ ان نہتے طلبہ پر آنسو گیس کے گولے داغنا، لاٹھیاں برسانا اور ان کی آواز دبانا ایک جمہوری ریاست کے لیے باعث تشویش ہے۔
موجودہ صورتحال کے پس منظر پر بات کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور اقتدار میں اب تک 152 پیپر لیک کے سنگین واقعات سامنے آ چکے ہیں، لیکن حکومت کسی ایک بھی مجرم کو قرار واقعی سزا دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا کہ حکومت سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جا رہا اور وزیر اعظم نوجوانوں کے ان سلگتے ہوئے مسائل پر پارلیمنٹ میں جواب کیوں نہیں دے رہے۔
طلبہ کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال اور مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات کی معطلی نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔ پرینکا گاندھی نے بتایا کہ مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کی خیریت تک جاننے سے قاصر رہے جس سے ان کے کرب میں مزید اضافہ ہوا۔ کانگریس رہنما نے خبردار کیا کہ اگر احتجاج کے دوران کسی بھی طالب علم کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی براہ راست ذمہ داری وزیر اعظم اور ان کی حکومت پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پیپر لیک کے معاملات میں ملوث عناصر کو سخت ترین سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔
وزیر اعظم کی جانب سے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ طلبہ کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اور متاثرہ طلبہ اب زبانی دعووں کے بجائے حکومت سے ان عملی اقدامات کے منتظر ہیں جو نظام تعلیم پر اٹھنے والے سوالات اور بے اعتمادی کا حقیقی معنوں میں خاتمہ کر سکیں۔




