ملک بھر میں مسابقتی امتحانات اور بالخصوص NEET پیپر لیک دھاندلی کے خلاف جاری طلبہ تحریک کے درمیان معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال بدھ کے روز 25 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ گڑگاؤں کے میدانتیا اسپتال میں زیر علاج 59 سالہ سونم وانگ چک نے واضح کیا ہے کہ اگر مرکزی حکومت انہیں یہ تحریری اور مکمل ضمانت فراہم کر دے کہ پرامن احتجاج میں شامل کسی بھی نوجوان یا طالب علم کے خلاف انتقامی اور قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے یہ یقینی دہانی نہ کرائی تو وہ غیر معینہ مدت کے لیے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھنے پر مجبور ہوں گے۔
مرکزی وزراء جے پی نڈا اور ڈاکٹر جیتندر سنگھ کے نام تحریر کردہ ایک مکتوب میں سونم وانگ چک نے کہا کہ احتجاج کرنے والے تمام نوجوان صرف ایک شفاف، بااعتماد اور جوابدہ تعلیمی نظام کی بحالی کے لیے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں وزراء کی جانب سے اسپتال میں ان کی مزاج پرسی کے لیے آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران وزراء نے پیپر لیک کی وجہ سے خودکشی کرنے والے NEET امیدواروں کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دینے اور پارلیمنٹ میں اس اہم مسئلے پر تفصیلی بحث کرانے کی لوجسٹک یقین دہانی کرائی ہے۔ اس میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی عوامی مانگ پر غور کرنا بھی شامل ہے۔
سونم وانگ چک نے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پیر کے روز پارلیمنٹ مارچ کے دوران کیے گئے تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے شدید جبر کے باوجود طلبہ کا مارچ مکمل طور پر پرامن تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران 65 کے قریب ممبرانِ پارلیمنٹ اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور وہ خود بھی واپس اپنے تعلیمی کاموں میں مصروف ہونا چاہتے ہیں، لیکن نوجوانوں اور طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال کر ایسا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔
واضح رہے کہ سونم وانگ چک 28 جون سے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور امتحانات کی شفافیت کے لیے بھوک ہڑتال پر ہیں اور ہفتے کے روز انہیں جنتر منتر سے دہلی پولیس نے ہٹا کر پہلے صفدر جنگ اور بعد میں گڑگاؤں کے میدانتیا اسپتال میں منتقل کیا تھا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے خط میں امید ظاہر کی کہ حکومت نہ صرف ان کی اپیل سنے گی بلکہ لاکھوں ہندوستانی نوجوانوں की امیدوں کا احترام کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر مزید تشدد سے روکے گی۔
تعلیمی ماہرین اور شہری حقوق کی تنظیموں نے سونم وانگ چک کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انا پرستی چھوڑ کر نوجوانوں کے آئینی اور جمہوری حقوق کا تحفظ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے تعلیمی مستقبل کو بچانے کے لیے فوری طور پر اصلاحی اقدامات اور طلبہ سے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
حکومت کی جانب سے سونم وانگ چک کے اس مکتوب پر باقاعدہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ ملک بھر کی طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے اور طلبہ کو قانونی تحفظ نہیں ملتا، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔




