‘ہمارا وقت ضائع نہ کریں’: چیف جسٹس کا مظاہرین پر پولیس کارروائی کی فوری سماعت سے انکار

نئی دہلی میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی اور نیت کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں پر پولیس کے تشدد اور فورس کے استعمال کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فوری مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی والی بینچ نے مظاہرین پر پولیس تشدد کے ویڈیوز کورٹ کے سامنے پیش کرنے کی وکیل کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے زبانی طور پر کہا کہ عدالت کے پاس ایسے ویڈیوز دیکھنے کا وقت نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس میں دلچسپی رکھتی ہے۔

یہ معاملہ بدھ کے روز سپریم کورٹ کی اس بینچ کے سامنے لایا گیا تھا جس میں چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا شامل تھے۔ ایک وکیل نے پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلبہ اور کارکنوں پر پولیس کی جانب سے کی گئی مبینہ بربریت، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے اس کا از خود نوٹس لینے کی اپیل کی۔ وکیل نے کہا کہ پولیس نے پرامن مظاہرین پر بے تحاشا طاقت کا استعمال کیا ہے اور اس کے ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں، لہٰذا اس معاملے کی ہنگامی بنیادوں پر سماعت کی جائے۔

چیف جسٹس سوریا کانت نے وکیل کو بیچ میں ہی ٹوکتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا کہ وہ عدالت کا وقت ضائع نہ کریں اور اپنا وقت بھی خراب نہ کریں۔ جب وکیل نے دوبارہ زور دے کر کہا کہ اس احتجاج کا تعلق لاکھوں طلبہ کے مستقبل اور نیت امتحانات میں اصلاحات سے ہے، جس میں این ٹی اے کو تحلیل کرنے اور امتحانات کو شفاف بنانے جیسے مطالبات شامل ہیں، تو بینچ نے اپنا موقف قائم رکھا۔ وکیل کی جانب سے یہ کہے جانے پر کہ ان کے پاس پولیس اہلکاروں کے تشدد کی ویڈیوز موجود ہیں، چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت اس مرحلے پر ان ویڈیوز کو دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

یہ واقعہ ۲۰ جولائی کو دہلی کے جانتر مانتر سے پارلیمنٹ کی طرف ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ اور مختلف طلبہ تنظیموں کے تحت نکلنے والے ‘چلو سنسد’ مارچ کے بعد پیش آیا تھا۔ اس مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جس میں دہلی پولیس پر لاٹھی چارج، آنسو گیس، اور مبینہ طور پر پیلٹ گنز اور شاک بیٹنز کے استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس تشدد میں درجنوں طلبہ شدید زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے رکاوٹیں توڑنے اور عوامی جائیداد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے بھی پولیس تشدد کے خلاف دائر کردہ ہنگامی عرضی پر فوراً سماعت سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ عدالتوں کو اس معاملے میں گھسیٹنے کے بجائے باضابطہ طریقہ کار کے تحت کارروائی کی جائے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور پارلیمنٹ کے اندر و باہر احتجاج کرنے کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

چیف جسٹس کے حالیہ تبصرے کے بعد طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ارکان میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر تشدد ہوتا ہے اور عدالت عالیہ ویڈیوز کو دیکھنے سے بھی انکار کر دیتی ہے تو انصاف کے بنیادی آئینی راستے مسدود محسوس ہوتے ہیں۔

شیئر کریں۔