بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل میں نیشنل ہائی وے 66 کی توسیع اور تعمیراتی کاموں کے باعث عوام کو درپیش مشکلات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی جا رہی ہیں۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ تعمیراتی کام مکمل کیے گئے ہیں، تاہم ٹریفک کی بے ترتیبی، سروس روڈ کی خستہ حالی اور غیر قانونی پارکنگ کے مسائل بدستور برقرار ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں اور مسافروں کو روزانہ شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شہر کے مصروف ترین علاقے شمس الدین سرکل کے قریب سروس روڈ کی خراب حالت نے آمد و رفت کو مشکل بنا دیا ہے۔ سڑک پر جگہ جگہ گڑھے اور ناہمواری کے باعث گاڑیوں کی رفتار متاثر ہو رہی ہے اور حادثات کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب مرکزی شاہراہ کے کنارے غیر قانونی پارکنگ نے ٹریفک کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ خاص طور پر نوائط کالونی کی طرف جانے والی سڑک کے بائیں جانب روزانہ بڑی تعداد میں گاڑیاں کھڑی کی جا رہی ہیں، جبکہ وہاں واضح طور پر "نو پارکنگ” کے بورڈ اور بیریکیڈس نصب ہیں۔ اس کے باوجود قواعد کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے۔
صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب ون وے سڑک پر مخالف سمت سے گاڑیاں داخل ہوتی ہیں۔ نور مسجد کے اطراف بسوں کی رانگ سائیڈ آمد و رفت معمول بن چکی ہے، جس سے حادثات کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس خطرناک رجحان کی روک تھام کے لیے نہ تو پولیس کی جانب سے مؤثر نگرانی کی جا رہی ہے اور نہ ہی متعلقہ محکمے کوئی عملی اقدامات کر رہے ہیں۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ پولیس، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور متعلقہ انتظامی ادارے مشترکہ طور پر فوری مداخلت کریں، غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں، رانگ سائیڈ ڈرائیونگ پر قابو پائیں اور سروس روڈ کی مرمت کو ترجیح دیں تاکہ شہریوں کو درپیش روزمرہ مشکلات سے نجات مل سکے اور ٹریفک کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔




