کاروار (فکروخبر نیوز) ساحلی کرناٹک کی ہمہ جہت ترقی، ماہی گیر برادری کے تحفظ اور سیاحتی امکانات کو فروغ دینے کے لیے کوسٹل ڈویلپمنٹ بورڈ نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ بورڈ کے چیئرمین ایم اے غفور نے کہا ہے کہ اترا کنڑا، اڈپی اور دکشن کنڑا اضلاع کی ترقی کے لیے موجودہ 10 کروڑ روپے کا بجٹ ناکافی ہے، لہٰذا وزیرِ اعلیٰ کرناٹک سے فنڈ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے 100 کروڑ روپے تک اضافہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔
کاروار میں ڈپٹی کمشنر آفس کے کانفرنس ہال میں منعقدہ ساحلی ترقیاتی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایم اے غفور نے کہا کہ ساحلی علاقوں کی ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں کے پیش نظر موجودہ فنڈ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ کی جانب سے جلد ہی وزیرِ اعلیٰ کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا جائے گا جس میں اضافی فنڈ کی ضرورت اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ بورڈ کے نمائندوں نے تمل ناڈو اور کیرالہ کے ساحلی علاقوں، خصوصاً کوچی واٹر میٹرو منصوبے کا مطالعہ کیا ہے۔ اسی تجربے کی بنیاد پر کرناٹک کے ساحلی خطے میں بھی واٹر میٹرو سروس متعارف کرانے، موجودہ شپ بلڈنگ مراکز کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ہوناور میں نئے شپ بلڈنگ یارڈ کے قیام کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اڑان اسکیم کے تحت ساحلی علاقوں میں سی پلین سروس شروع کرنے کے امکانات پر بھی سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں سال 2026-27 کے لیے بورڈ کے ایکشن پلان کو بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے دوران مختلف عوامی نمائندوں نے بھی اہم تجاویز پیش کیں۔ سرسی کے رکن اسمبلی بھیمنا نائک نے ملناڈ اور ساحلی علاقوں کے درمیان بہتر رابطے کے لیے سڑکوں، پلوں اور فٹ برجوں کی تعمیر پر زور دیا۔ انہوں نے سیاحتی مقامات خصوصاً آبشاروں پر مکمل پابندی کے بجائے مؤثر حفاظتی انتظامات کو ترجیح دینے کی بات کہی۔
دوسری جانب ایم ایل اے اماناتھ کوٹیان نے تلاپاڈی سے کاروار تک ساحلی کٹاؤ کو روکنے کے لیے رنگ روڈ کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ بورڈ کے رکن گنپتی الویکر نے ماہی گیروں کی کشتیوں اور جالوں کو ہونے والے نقصانات کے فوری معاوضے اور بحریہ کی سرگرمیوں کے دوران ماہی گیروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کے لکشمی پریا، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر دلیش ششی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ساجد ملا، بورڈ کے سکریٹری پردیپ ڈی سوزا سمیت مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران اور عوامی نمائندے شریک تھے۔




