نئی دہلی: پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس سے قبل ملک میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور اپوزیشن جماعتوں نے مختلف عوامی و پالیسی سازی کے مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی مکمل تیاری کر لی ہے۔ کانگریس پارٹی نے مودی حکومت کے مجوزہ ’وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل‘ یعنی نئے تعلیمی بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس قانون کے پیچھے حکومت کی نیت صاف نہیں ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نئے تعلیمی بل کا اصل مقصد ملک کی تمام خود مختار یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں پر مرکز کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے، جو تعلیمی آزادی اور وفاقی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، جئے رام رمیش نے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کی حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بار مانسون اجلاس میں 19 کام کے دن مقرر ہیں، جس کے دوران حکومت کئی اہم بل پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کانگریس رہنما نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو بھی بل ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں ہوں گے، اپوزیشن ان کی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور مخالفت کرے گی۔ انہوں نے خاص طور پر مجوزہ حد بندی بل (ڈیلی میٹیشن بل) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اس کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہوگی کیونکہ اس سے مختلف ریاستوں اور طبقات کے سیاسی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اعلیٰ تعلیمی نظام بالخصوص اقلیتی تعلیمی اداروں اور مرکزی یونیورسٹیوں کی خودمختاری پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے یہ بحث انتہائی حساس اختیار کر چکی ہے۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ تعلیمی نظام کو مخصوص نظریاتی سانچے میں ڈھالنے اور مرکزیت پسندی کو فروغ دینے کے لیے ایسے قوانین لائے جا رہے ہیں۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے کی خواہشمند ہے، لیکن اس کے لیے برسراقتدار طبقے اور اپوزیشن کے درمیان باہمی تعاون اور احترام کا ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے ماضی کے اجلاسوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ خود حکومت کے اراکین پارلیمنٹ ہنگامہ آرائی کر کے کارروائی میں خلل ڈالتے ہیں تاکہ اہم مسائل پر بحث سے بچا جا سکے۔
کانگریس نے انکشاف کیا کہ مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن پارٹیاں کئی سلگتے ہوئے قومی مسائل کو ایوان میں اٹھائیں گی۔ ان میں میڈیکل داخلہ امتحان ‘نیٹ’ (NEET) پیپر لیک کا بڑا اسکینڈل اور اس کے نتیجے میں لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کا معاملہ سرِفہرست ہے، جس پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شری رام مندر کی زمین کی خریداری میں مبینہ چندہ چوری کا معاملہ اور ملک کی خارجہ پالیسی سے جڑے سنگین چیلنجز بھی اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے خارجہ پالیسی کی ناکامی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی بڑھتی ہوئی جگل بندی ملک کے لیے خطرہ ہے اور رواں سال چین کے ساتھ بھارت کا تجارتی خسارہ تشویشناک حد تک بڑھ کر 130 بلین ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
اپنے سیاسی سفر اور عوامی رابطے کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری نے ‘بھارت جوڑو یاترا’ اور ‘بھارت جوڑو نیائے یاترا’ کو ملکی سیاست اور خود راہل گاندھی کے لیے ایک انقلابی اور تبدیلی کا لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان یاتراؤں کے دوران عوام کے حقوق، روزگار اور سماجی انصاف کے جو مسائل اٹھائے گئے، انہوں نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ جئے رام رمیش نے مودی بریگیڈ پر طنز کرتے ہوئے یاد دلایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں جو لوگ ’400 پار‘ کا مغرور نعرہ لگا رہے تھے، ملک کے عوام نے انہیں سچائی کا آئینہ دکھاتے ہوئے محض 240 سیٹوں پر سمیٹ دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عوام اب یکطرفہ فیصلوں اور آمریت کے خلاف بیدار ہو چکے ہیں۔




