بنگلورو: کرناٹک کے دیہی ترقی، پنچایت راج اور آئی ٹی بی ٹی (IT-BT) کے وزیر پریانک کھرگے نے الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام کو سخت ہدایت دی ہے کہ ووٹر لسٹوں کی جاری ازسرِ نو جانچ (Special Intensive Revision) کی مہم کو سخت آئینی حدود کے اندر ہی انجام دیا جائے۔ انتخابی شفافیت اور ووٹروں کے حقوق پر منعقدہ ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ریاست گیر سطح پر ڈیٹا کی صفائی کے نام پر غریبوں، مزدوروں اور تاریخی طور پر پسماندہ طبقات کو بڑے پیمانے پر حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا سکتا ہے، جسے کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کرناٹک میں لگ بھگ 59,000 بوتھ لیول افسران (BLOs) نے مہینہ بھر چلنے والی فیلڈ ویریفکیشن مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ پریانک کھرگے نے کہا کہ اگرچہ ووٹر لسٹ سے دوہرے یا غلط ناموں کو ہٹانا ایک انتظامی ضرورت ہے، لیکن اس کے لیے اپنایا جانے والا سخت اور پیچیدہ بیوروکریٹک طریقہ کار ہندوستانی آئین کے جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ معاشرے کے کمزور طبقات، بالخصوص بے زمین دیہی کارکن، مہاجر مزدور اور کم آمدنی والی خواتین اکثر مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جیسے قانونی دستاویزات پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں، لہٰذا کسی بھی شہری کا ووٹ دینے کا حق پیچیدہ کاغذی کارروائی کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔
کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے وزیر موصوف نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کی ستائش کی جس کے تحت تقریباً 50,000 وارڈ لیول سینٹرز اور سیوا سندھو پورٹل کے ذریعے شہریوں کو فوری طور پر رہائشی سرٹیفکیٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کامیابی کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ اس نے کتنے اہل شہریوں کو جمہوریت کا حصہ بنایا، نہ کہ یہ کس جارحیت کے ساتھ لسٹ سے نام خارج کیے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ 29 جولائی کی آخری تاریخ تک گھر گھر جا کر ہونے والی اس گنتی کی نگرانی کریں۔ کھرگے نے یقین دلایا کہ حکمران کانگریس پارٹی نے بھی ہزاروں نچلی سطح کے ایجنٹس کو متحرک کیا ہے تاکہ مقامی افسران کے کام کی تصدیق کی جا سکے اور ہر جائز شہری کا آئینی حق محفوظ رہے۔




