چامراج نگر (فکروخبر نیوز) ضلع میسور میں مساجد اور اہلِ خیر کے اشتراک سے جاری ’’مسجد وَن و علمائے میسور‘‘ کی تعلیمی و طبی خدمات کی نمایاں کامیابی کے بعد اب چامراج نگر اور کولیگال میں بھی اسی طرز پر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے تحت 27 جون 2026ء (11 محرم الحرام 1448ھ) کو چامراج نگر کے جے کے فنکشن ہال میں ’’مسجد وَن و علمائے چامراج نگر و کولیگال‘‘ کے عنوان سے ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ائمہ مساجد، ذمہ دارانِ مساجد، علماء کرام اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
اجلاس کے مہمانِ خصوصی ممتاز دینی و تعلیمی شخصیت اور علی پبلک اسکول کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس ندوی بھٹکلی نے اپنے خطاب میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مسلم معاشرے کی اجتماعی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امت کے مستقبل کے تحفظ کے لیے معیاری تعلیمی اداروں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہےجہاں بچوں کے ایمان اور اعمال کی حفاظت ہواور بچوں کے تعلیم پر بھی کم اخراجات آئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ابتدائی تعلیم کے مرحلے میں بچوں کی صحیح تربیت اور دینی ماحول کی فراہمی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ مولانا نے اپنے مختلف بین الاقوامی اسفار اور مشاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم معاشرے کو تعلیم اور صحت کے میدان میں خود کفیل بنانے کے لیے منظم کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مقامی سطح پر چھوٹے پیمانے سے تعلیمی منصوبے شروع کرکے انہیں بتدریج وسعت دی جا سکتی ہے۔
اجلاس میں میسور کے ’’مسجد وَن‘‘ ماڈل کے تحت انجام دی جانے والی خدمات کا بھی جائزہ پیش کیا گیا۔ بتایا گیا کہ وہاں الانصار اسپتال کے تعاون سے کم خرچ طبی سہولیات اور مختلف تعلیمی اداروں کے اشتراک سے معاشی طور پر کمزور طبقے کے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔
شرکائے اجلاس نے چامراج نگر اور کولیگال میں بھی اسی طرز پر کام شروع کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ابتدائی مرحلے میں تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ مقامی سطح پر موجود تعلیمی اداروں اور سماجی کارکنوں نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس کے اختتام پر مختلف مساجد کے ذمہ داران نے اس فلاحی اور تعلیمی مشن کو مستحکم بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔




