بھٹکل(ٖپریس ریلیز) جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور میں حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے سانحۂ وفات پر تعزیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں جامعہ کے ناظم، اساتذۂ کرام اور طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر حضرت مولانا کی دینی، علمی، فکری اور دعوتی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
جامعہ کے ناظم مولانا عبید اللہ ابوبکر ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور کا مزاج و مشرب دارالعلوم ندوۃ العلماء سے وابستہ ہے، اسی مناسبت سے ندوہ کے اکابر کا اس ادارے سے ابتدا ہی سے گہرا تعلق رہا ہے۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ، حضرت مولانا رابع حسنی ندویؒ، حضرت مولانا عبداللہ حسنی ندویؒ، حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ، حضرت مولانا واضح رشید ندویؒ، حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمیؒ، حضرت مولانا جعفر صاحب، حضرت مولانا بلال صاحب، حضرت مولانا محمود صاحب اور دیگر اکابر متعدد مرتبہ جامعہ تشریف لا چکے ہیں۔ ان تمام بزرگوں میں حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کا تعلق جامعہ اور خصوصاً مجھ سے نہایت گہرا اور خصوصی ربط تھا۔ حضرت مولانا جب بھی اس علاقے میں تشریف لاتے تو جامعہ ضرور حاضر ہوتے اور جامعہ کی دعوت پر مختلف علمی و دینی پروگراموں اور جلسوں میں خصوصی شرکت فرماتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ اپنی تاریخ میں مختلف آزمائشوں اور دشوار حالات سے گزرا، لیکن ایسے نازک مواقع پر جن اکابر نے اس ادارے کی بھرپور سرپرستی، حوصلہ افزائی اور تعاون فرمایا، ان میں حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کا نام سرِفہرست ہے۔ وہ ہمیشہ جامعہ کی ترقی، استحکام اور دینی خدمات کی فکر فرماتے اور ادارے کے ہر مثبت کام پر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔
حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ بے باک، باہمت، زندہ دل اور حق گو عالم تھے، جن پر "لَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ” کا عملی نمونہ صادق آتا تھا۔ حق بات کہنے میں وہ کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرتے تھے۔ تحریک شباب الاسلام کے ذریعے ان کی انجام دی گئی علمی، فکری اور دعوتی خدمات مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ حضرت مولانا علمِ حدیث کے ممتاز عالم تھے، جن کی علمی عظمت کا اعتراف صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمِ عرب اور دنیا بھر کے اہلِ علم کرتے تھے۔ عربی زبان پر ان کی غیر معمولی قدرت ایسی تھی کہ اہلِ عرب بھی ان کی فصاحت و بلاغت پر رشک کرتے تھے، جبکہ اردو زبان میں ان کا اسلوب اہلِ ادب کے لیے باعثِ فخر تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے حالات ‘مذکراتی’ کے عنوان سے کئی جلدوں میں قلم بند کیے اور عمر کے آخری لمحے تک علمی و تحقیقی کاموں میں مصروف رہے۔ ان کی زندگی اس حدیثِ نبوی ﷺ کی عملی تفسیر تھی کہ مومن علم سے کبھی سیر نہیں ہوتا، یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے وصال کے بعد حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کو ندوۃ العلماء کا مؤثر ترجمان سمجھا جاتا تھا۔ وہ علم و فضل کا ایک بحرِ ذخار اور انقلابی شخصیت کے مالک تھے۔ ہمیشہ امت کے لیے کچھ نہ کچھ مفید کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔ حضرت علی میاں ندویؒ اور دیگر اکابر کی موجودگی میں بھی بڑے اجتماعات میں ان کے مدلل، مؤثر اور ولولہ انگیز خطابات سامعین کو بے حد متاثر کرتے تھے۔
اساتذۂ کرام میں مولانا الیاس ندوی (استادِ حدیث)، مولانا ضمیر رشادی، مفتی فیاض احمد برمارے حسینی اور مفتی صابر حسین ندوی نے بھی اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے حضرت مولانا کی علمی خدمات، اخلاص، جرأتِ اظہار، وسیع مطالعہ اور جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور سے ان کی گہری وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اجلاس کے اختتام پر ناظمِ جامعہ مولانا عبید اللہ ابوبکر ندوی نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے اندر علم دوستی، کثرتِ مطالعہ، اخلاص، بلند حوصلگی اور حق گوئی جیسی صفات پیدا کریں۔ حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے مطالعے کا ذوق، علمی وسعت، منفرد اندازِ تقریر اور دینی خدمت کا جذبہ طلبہ کے لیے بہترین نمونہ ہے، اس لیے طلبہ کو چاہیے کہ ان اوصاف کو اپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کریں۔
اجلاس کے اختتام پر حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے درجاتِ بلند، مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔




