تلنگانہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ایک اہم ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں جاری خصوصی سمری ریوائزن کے تحت ان تمام اسمبلی حلقوں میں اردو زبان میں اینومریشن فارم دستیاب کرانے پر غور کیا جائے جہاں اردو بولنے والی آبادی بیس فیصد سے زیادہ ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے اس دعوے پر سخت برہمی کا اظہار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ متعدد زبانوں میں فارم چھاپنا ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شہریوں کے انتخابی حقوق کا تحفظ جمہوریت میں سب سے اہم ترین ذمہ داری ہے جس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔
اس معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے الیکشن کمیشن کے موقف پر زبانی ریمارکس دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب موبائل فون کمپنیوں کے یوزر مینوئل، سم کارڈ کے پیکیج اور دیگر تجارتی مصنوعات کے کیٹلاگ بیک وقت کئی زبانوں میں فراہم کیے جا سکتے ہیں تو الیکشن کمیشن جیسے بااختیار آئینی ادارے کے لیے الگ الگ زبانوں میں فارم دستیاب کرانا کیوں ممکن نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل اویناش دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن فی الحال بوتھ لیول افسران کو انگریزی اور اردو میں ڈمی اینومریشن فارم فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ ان ووٹروں کی مدد کر سکیں جو تیلگو زبان پڑھنے لکھنے سے قاصر ہیں۔ حیدرآباد ضلع کے علاوہ ریاست کے دیگر تمام اضلاع میں یہ فارم صرف تیلگو زبان میں ہی شائع کیے جا رہے ہیں۔
یہ پورا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب درخواست گزار ایم اے مجیب نے عدالت میں ایک عرضی دائر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف تیلگو زبان میں فارم تقسیم کیے جانے کے اقدام کو چیلنج کیا۔ درخواست گزار نے عدالت کے سامنے یہ سنگین خدشہ ظاہر کیا کہ صرف ایک مخصوص زبان میں فارم کی فراہمی سے لاکھوں لسانی اقلیتیں اور اردو داں طبقہ ووٹر لسٹ سے باہر ہو سکتا ہے جو کہ ان کے بنیادی آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اس سے قبل الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے حیدرآباد کی لسانی اور ثقافتی شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد کمیشن نے حیدرآباد ضلع میں تیلگو کے ساتھ انگریزی فارم دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہونے کی امید ہے کیونکہ حیدرآباد ضلع کی تقریباً 43 فیصد آبادی کی مادری زبان اردو ہے لیکن یہ رعایت حیدرآباد شہر کے ان بڑے حصوں پر لاگو نہیں ہو رہی تھی جو میڈچل-ملکاجگری اور رنگا ریڈی اضلاع کے نیم شہری علاقوں کے تحت آتے ہیں۔ ہائی کورٹ کی اس نئی مداخلت سے ان غریب اور پسماندہ اقلیتی ووٹروں کو ریلیف ملے گا جو زبان کی رکاوٹ کے باعث اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔ سماجی اور معاشی سروے کے مطابق گریٹر حیدرآباد کے علاقوں کے علاوہ نظام آباد جیسے اضلاع میں بھی اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اس فیصلے سے براہِ راست متاثر ہوگی۔
عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ان حلقوں کی نشاندہی کرے جہاں اردو داں آبادی کا تناسب زیادہ ہے اور وہاں فوری طور پر اردو فارم فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ عدالت نے فی الحال الیکشن کمیشن کے ڈمی فارم فراہم کرنے کے فیصلے کو عارضی ریلیف قرار دیتے ہوئے مستقل حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔ اس اہم آئینی اور عوامی معاملے کی اگلی سماعت نو جولائی کو مقرر کی گئی ہے جس میں الیکشن کمیشن کو اپنے حتمی اقدامات کی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرنی ہوگی۔




