بھارت کی وزارت خارجہ نے ایک اہم تشریح میں واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز (ٹریول ڈاکومنٹ) ہے اور اسے ملک کی شہریت کا حتمی ثبوت تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پاسپورٹ سیوا دیوس کے موقع پر حکام کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان نے ملک کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک غیر سرکاری عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ پاسپورٹ کا اجرا بہت گہرائی سے کی جانے والی تحقیقات اور مختلف سرکاری ایجنسیوں کی فراہم کردہ دستاویزات کی بنیاد پر ہوتا ہے، لیکن یہ بذات خود شہریت کا متبادل نہیں ہے۔
اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شیو سینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے مرکزی حکومت کے اس موقف کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں سوال اٹھایا کہ اگر وزارت خارجہ پاسپورٹ کو شہریت کی دستاویز نہیں مانتی تو پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے پولیس اتنی سخت تصدیق کیوں کرتی ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ہمارا ملک غیر ملکی شہریوں کو بھی سفری دستاویز کے طور پر پاسپورٹ جاری کرتا ہے؟ آدتیہ ٹھاکرے کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس طرح کے اعلانات سے دیگر ممالک کے ذہنوں میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں کہ آیا غیر بھارتیوں کو بھی بھارتی پاسپورٹ مل رہے ہیں۔
دستیاب قانونی ریکارڈز کے مطابق، سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس نے ماضی میں متعدد بار یہ فیصلہ دیا ہے کہ آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی کارڈ، پین کارڈ، یا گرام پنچایت کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ، اور یہاں تک کہ بینک اکاؤنٹ یا جائیداد کی ملکیت بھی شہریت کا حتمی قانونی ثبوت نہیں ہیں۔ اس وقت ملک میں کوئی ایک ایسی واحد دستاویز موجود نہیں ہے جو پیدائشی طور پر بھارتی شہریوں کی شہریت کو براہ راست ثابت کرتی ہو۔ شہریت کے باقاعدہ سرٹیفکیٹس صرف ان غیر ملکیوں کو دیے جاتے ہیں جو قانونی عمل کے تحت بھارت کی شہریت اختیار کرتے ہیں۔
اس وضاحت کے بعد عوام اور اقلیتی حلقوں میں تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ ملک میں پہلے ہی شہریت کے قوانین اور دستاویزات کو لے کر طویل عرصے سے حساس بحث جاری ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ ایک مضبوط ترین سفری دستاویز تو ہے، مگر قانونی پیچیدگیوں اور شہریت ایکٹ کے تناظر میں عدالتیں اسے شہریت کا حتمی اور ناقابل تردید ثبوت تسلیم کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سیاسی تنازع مزید بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ اپوزیشن جماعتیں اب حکومت سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ اگر روایتی شناختی دستاویزات شہریت کا ثبوت نہیں ہیں، تو حکومت واضح کرے کہ عام شہریوں کے لیے شہریت کا معتبر معیار کیا ہے۔ مروجہ قانونی طریقہ کار کے تحت اب اس معاملے پر وزارت خارجہ یا وزارت داخلہ کی جانب سے مزید تفصیلی گائیڈ لائنز کا انتظار کیا جا رہا ہے۔




