آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلسِ عاملہ کا ایک انتہائی اہم اور تزویراتی اجلاس ملک کے دارالحکومت نئی دہلی میں اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ موجودہ ملکی و ملی صورتِ حال کے نازک تناظر میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں مسلم برادری کو درپیش مختلف چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور کئی دُور رس فیصلے کیے گئے۔ بورڈ نے بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد، مساجد و مدارس کے خلاف یکطرفہ انہدامی کارروائیوں، اور رہائشی مکانات پر بلڈوزر کی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اسکولوں اور سرکاری امداد یافتہ مدارس میں وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی کوششوں اور مختلف ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی پیش رفت پر سخت قانونی و عوامی حکمتِ عملی تیار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران مجلسِ عاملہ نے واضح کیا کہ مختلف مقتدرہ ریاستوں میں مسلم اقلیت کی جان و مال، عزت و آبرو، مساجد، مدارس، قبرستانوں اور پرسنل لا جیسے بنیادی دستوری حقوق کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بورڈ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں منظم انداز میں نفرت، تعصب اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی فضا کو پروان چڑھایا جا رہا ہے اور اس ماحول کو ہوا دینے میں خود حکومت کے اعلیٰ عہدے داران پیش پیش دکھائی دیتے ہیں، جبکہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کوئی مؤثر قانونی اقدام نہیں کیا جاتا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس نازک صورتِ حال پر ملک کی سیکولر سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی کی بھی سخت مذمت کی اور کہا کہ مسلمانوں کو محض ایک سیاسی ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس صورتِ حال کے تدارک کے لیے بورڈ ایک جامع دستاویزی رپورٹ تیار کر کے شائع کرے گا تاکہ ملک کے انصاف پسند اور جمہوری طبقات کے ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔
اجلاس میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے کمال مولی مسجد و بھوج شالہ کے حوالے سے دیے گئے حالیہ فیصلے پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ مجلسِ عاملہ نے اس عدالتی فیصلے کو تاریخی شواہد، ریونیو ریکارڈ اور صدیوں پر محیط مسلم عبادتی روایت کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں سے متعلق قانون یعنی پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کی روح کے بھی صریحاً منافی قرار دیا۔ بورڈ نے کمال مولی مسجد کمیٹی کی جانب سے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس طویل قانونی جدوجہد میں مسجد کمیٹی کی ہر ممکنہ سطح پر دستگیری اور قانونی معاونت فراہم کرے گا۔
سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں و مدارس میں وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی حالیہ کوششوں کو بورڈ نے دستورِ ہند کی دفعہ 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے حقوق سے متصادم قرار دیا ہے۔ اجلاس میں مغربی بنگال حکومت کی جانب سے اسکولوں اور مدارس میں وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی سخت الفاظ میں مخالفت کی گئی اور اسے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے ‘بیجوئے ایمینوئل بنام ریاستِ کیرالا 1986’ کے خلاف قرار دیتے ہوئے فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ بورڈ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے اس عبوری فیصلے کی ستائش کی جس میں مدارس میں وندے ماترم گانے کی حکومتی ہدایت پر روک لگا دی گئی ہے۔ بورڈ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ وندے ماترم کے بعض مضامین مسلمانوں کے عقیدۂ توحید سے ٹکراتے ہیں، اس لیے رواداری یا حب الوطنی کے نام پر مسلمان اپنے دین و ایمان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔
علاوہ ازیں، اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد آسام، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی تیاریوں پر بورڈ نے کڑی تنقید کی۔ مجلسِ عاملہ کا کہنا ہے کہ یو سی سی کا جبری نفاذ ملک کے کثرت پسند اور متنوع سماجی ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ جس طرح اتراکھنڈ کے یو سی سی قانون کو نینی تال ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، اسی طرح دیگر ریاستوں میں بھی ایسے قوانین کے خلاف بھرپور قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ ان تمام دستوری پامالیوں، نفرت کے فروغ اور اقلیتوں کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوششوں کے خلاف مسلم پرسنل لا بورڈ ملک کے تمام انصاف پسند، جمہوریت پسند اور امن پسند عناصر کو ساتھ لے کر ایک ملک گیر تحریک شروع کرنے جا رہا ہے، جس کے لیے ایک باقاعدہ ‘مجلسِ عمل’ تشکیل دی جا رہی ہے۔
اس انتہائی اہم اجلاس کی صدارت صدرِ بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے انجام دیے۔ اجلاس میں ملک بھر سے ممتاز ملی و سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں نائبین صدور مولانا ارشد مدنی (صدر جمعیت علمائے ہند)، مولانا عبیداللہ خان اعظمی، جناب سید سعادت اللہ حسینی (امیر جماعت اسلامی ہند)، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث)، بیرسٹر اسد الدین اویسی (رکن پارلیمنٹ)، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی، اور مولانا خالد رشید فرنگی محلی سمیت ممتاز قانون داں جناب یوسف حاتم مچھالا اور جناب ایم آر شمشاد شامل تھے۔ اجلاس کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس کو جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی اور قومی ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے خطاب کرتے ہوئے ان فیصلوں کا باضابطہ اعلان کیا۔



