بنگلورو، 22 جون (فکروخبر نیوز) کرناٹک کی سیاست میں اس وقت ایک بڑی سیاسی ہلچل مچ گئی ہے جب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سینئر بی جے پی رہنما آر اشوک نے پیر کے روز ریاست کی کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے گرام پنچایت سطح پر ‘گارنٹی انفورسمنٹ کمیٹیوں’ کی تشکیل کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں کی کھلی لوٹ قرار دیا۔ آر اشوک نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت اپنے ناراض لیڈروں اور کارکنوں کو خوش کرنے اور انہیں سرکاری خرچ پر عہدے دینے کے لیے ان کمیٹیوں کا سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ کمیٹیاں عوام کی خدمت کے لیے ہیں یا کانگریس کارکنوں کو سرکاری خزانے سے پالنے کے مراکز بن چکی ہیں؟
اپوزیشن لیڈر نے ایک اہم پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب حکومت کی ‘گروہا لکشمی اسکیم’ میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جس کے تحت مبینہ طور پر فوت ہو چکے لوگوں کے اکاؤنٹس میں بھی پیسے ٹرانسفر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ترقیاتی کام فنڈز کی کمی کے باعث مکمل طور پر ٹھپ ہو چکے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کے بچے تاحال درسی کتب اور یونیفارم کے منتظر ہیں، اسکولوں کے پاس خستہ حال کلاس رومز کی مرمت کے لیے پیسے نہیں ہیں، اور یہاں تک کہ بچوں کو دیے جانے والے انڈوں کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ دوسری طرف راگی اگانے والے کسان اپنی بقایا امدادی قیمت حاصل کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ آر اشوک نے مطالبہ کیا کہ ان کمیٹیوں کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے اور اب تک ان کے اراکین کو دیے گئے تنخواہ اور مراعات واپس لی جائیں۔
آر اشوک نے بنگلورو کے وزیرِ ترقیات کرشنا بائیرے گوڈا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں طنزاً ‘ریلز منسٹر’ (Reels Minister) کا نام دیا اور الزام لگایا کہ وہ سوشل میڈیا پر تشہیر میں مصروف ہیں جبکہ شہر کی عوام بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں۔ انہوں نے ایچ ایس آر لے آؤٹ (HSR Layout) میں کاویری کے پینے کے پانی میں گندگی ملنے کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آلودہ پانی پینے سے 60 سے زائد خاندان بیمار ہو چکے ہیں اور کئی بچے اسپتالوں میں داخل ہیں۔ انہوں نے پانی کی جانچ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں خطرناک بیکٹیریا پائے گئے ہیں، لیکن بی ڈبلیو ایس ایس بی (BWSSB) نے 6 جون سے کی جانے والی شکایات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلورو میں روزانہ 1,775 ٹن کچرا ٹھکانے نہیں لگایا جا رہا، جس سے پورا شہر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کانگریس کا ‘برانڈ بنگلورو’ یہی ہے کہ عوام کو زہریلا پانی پلایا جائے اور کچرے کے ڈھیروں میں رہنے پر مجبور کیا جائے؟




