لکھنو کے کوچنگ سینٹر میں ہولناک آتشزدگی ، 12 لوگوں کی موت

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے گنجان آباد علاقے علی گنج میں واقع ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کی عمارت میں پیر کی دوپہر کو انتہائی ہولناک اور دلدوز آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس لرزہ خیز حادثے میں اب تک 12 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں زیادہ تر زیر تعلیم طلبہ شامل ہیں۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عمارت کے اندر موجود بچوں کو باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملا، جس کے باعث متعدد طلبہ نے اپنی جانیں بچانے کے لیے دوسری اور تیسری منزل کی کھڑکیوں اور بجلی کے تاروں کے سہارے نیچے چھلانگیں لگا دیں، جس کی وجہ سے کئی بچے شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ علی گنج کے ایک تجارتی احاطے میں پالتو جانوروں کی ایک دکان کے اوپر واقع ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ سب سے پہلے عمارت کی تیسری منزل پر لگی اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری منزل اور کوچنگ سینٹر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حادثے کے وقت انسٹی ٹیوٹ کے اندر 30 سے زائد طلبہ موجود تھے جو کلاسز میں مصروف تھے۔ آگ لگتے ہی عمارت کے اندر شدید افرا تفری اور خوف و ہراس پھیل گیا اور دھویں کے بادلوں کے باعث دم گھٹنے لگا۔ بھاگنے کا کوئی محفوظ راستہ نہ پا کر طلبہ نے کھڑکیوں کا رخ کیا اور نیچے کودنے پر مجبور ہو گئے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق فائر بریگیڈ کی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر پہنچنے میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی اور نقصان کا دائرہ بڑھ گیا۔

اس بھیانک سانحے کی اطلاع ملتے ہی ریاستی حکومت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، جو اس وقت علی گڑھ کے سرکاری دورے پر تھے، اپنا پروگرام فوری طور پر منسوخ کر کے لکھنؤ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ علی گڑھ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ لکھنؤ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا یہ واقعہ انتہائی المناک ہے جس میں معصوم بچوں کی جانیں گئی ہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود صورتحال کی نگرانی کے لیے لکھنؤ جا رہے ہیں تاکہ بچاؤ کاموں کا جائزہ لیا جا سکے اور غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) اور ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ کو فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کرنے اور اس پورے حادثے پر تفصیلی انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور فائر ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران موقع پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیاں اب بھی جنگی بنیادوں پر جاری ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے زخمی ہونے والے تمام طلبہ کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں اور ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق کئی بچوں کی حالت اب بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔

اس قسم کے تجارتی اور تعلیمی مراکز میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات اور ہنگامی اخراج کے راستوں کی عدم موجودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ گنجان علاقوں میں قائم ایسے کوچنگ سینٹرز میں سیکورٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جاتی ہے جس کی قیمت معصوم بچوں کو اپنی جان دے کر چکانی پڑتی ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار انسٹی ٹیوٹ مالکان اور متعلقہ محکموں کے لاپروہ افسران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک حادثات کو روکا جا سکے۔

شیئر کریں۔