مہاراشٹر اور مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بار پھر زبردست ہلچل پیدا ہو گئی ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ کی بڑی تعداد نے اپنی وفاداریاں تبدیل کر لی ہیں۔ مہاراشٹر میں سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب ان کے چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی قیادت سے الگ ہو کر ایکناتھ شندے دھڑے کے ساتھ جانے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ باغی اراکین نے اس سلسلے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کر کے اپنے الگ گروپ کو تسلیم کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ اس بڑی سیاسی اتھل پتھل پر کانگریس نے بی جے پی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر اور ترجمان پون کھیڑا نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مقتدرہ جماعت بی جے پی کی حکمت عملی پر سخت وار کیا۔ انہوں نے بی جے پی کے مشہور زمانہ ’آپریشن لوٹس‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’آپریشن کیچڑ‘ کا نام دیا۔ پون کھیڑا کا کہنا تھا کہ ملک کے جن انتخابی حلقوں یا ریاستوں میں بی جے پی کا ’کمل‘ عوامی حمایت کے ذریعے نہیں کھل پاتا، وہاں یہ جماعت دانستہ طور پر جوڑ توڑ اور دباؤ کی سیاست کے ذریعے کیچڑ پھیلانے کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی جانب سے چلائی جانے والی مبینہ ’آپریشن ٹائیگر‘ اور ’کانگریس مکت بھارت‘ مہم کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔
مہاراشٹر کی سیاست میں ادھو ٹھاکرے کے لیے ایکناتھ شندے کی طرف سے یہ دوسرا بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ شندے جو کبھی ادھو ٹھاکرے کے انتہائی قریبی ساتھی مانے جاتے تھے، اب قانون اور الیکشن کمیشن کی نظر میں اصل شیوسینا کے سربراہ بن چکے ہیں۔ حال ہی میں ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی اپنے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ مہاراشٹر میں اب صرف ایک ہی اصل شیوسینا ہے جس کی قیادت ایکناتھ شندے کر رہے ہیں۔ کانگریس نے اس پورے منظر نامے پر سوال اٹھایا ہے کہ عام انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے باوجود بی جے پی دوسری جماعتوں کے منتخب نمائندوں کو توڑنے میں کیوں مصروف ہے اور کیا اس کے پیچھے آئین کو تبدیل کرنے کا کوئی خفیہ ایجنڈا کارفرما ہے۔
ملک کی سیاسی صورتحال صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں ہے بلکہ مغربی بنگال میں بھی ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق بنگال میں ٹی ایم سی کے بیس ارکانِ پارلیمنٹ نے کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں پارٹی سے علیحدگی اختیار کر کے تریپورہ کی ایک علاقائی جماعت این سی پی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ہے جو کہ مقتدرہ این ڈی اے اتحاد کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی بنگال میں ٹی ایم سی کے کئی ارکانِ اسمبلی نے بھی اپنا ایک الگ گروپ تشکیل دے کر اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کر لیا ہے، جس نے ممتا بنرجی کی حکومت کے لیے پارلیمانی سطح پر نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔
جمہوری اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مقتدرہ جماعت کی جانب سے اپوزیشن کو کمزور کرنے کی یہ جارحانہ مہم ملک کے کثیر الجہتی جمہوری ڈھانچے کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ ناقدین کے مطابق منتخب نمائندوں کی اس طرح بڑے پیمانے پر خرید و فروخت یا دباؤ کے تحت وفاداریاں تبدیل کروانا عوامی مینڈیٹ کی کھلی توہین ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے انتباہ دیا ہے کہ وہ بی جے پی کی اس مبینہ دباؤ کی سیاست اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک عوامی احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گی تاکہ ملک کے آئین اور جمہوری روایات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔




