بنگلورو: کرناٹک حکومت نے سائبر بیداری اور ڈیجیٹل سیکورٹی کے محاذ پر ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ریاستی وزیر برائے آئی ٹی، بی ٹی اور ای-گورننس (جن کے پاس وائرلیس پولیس کا چارج بھی ہے) پریانک کھرگے نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کرناٹک پولیس نے سائبر دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے شہریوں کے 436 کروڑ روپے کامیابی کے ساتھ مختلف بینک کھاتوں میں منجمد (Freeze) کر دیے ہیں۔ اس شاندار کارکردگی کے ساتھ ہی کرناٹک شہریوں کی رقم سائبر جرائم سے محفوظ رکھنے کے معاملے میں پورے ملک میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ وزیر موصوف نے یہ اہم معلومات ایم جی روڈ پر واقع پولیس وائرلیس ہیڈ کوارٹر کے دورے اور اعلیٰ حکام کے ساتھ جائزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فراہم کیں۔
پریانک کھرگے نے واضح کیا کہ کرناٹک پولیس نے ‘لین مارک’ (Lien Mark) کے مؤثر طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے فرضی اور دھوکہ دہی پر مبنی بینک ٹرانزیکشنز کو فوری طور پر بلاک کیا۔ انہوں نے قومی سطح کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس فہرست میں مہاراشٹر 548 کروڑ روپے (کل رپورٹ کردہ رقم 3203 کروڑ کا 17 فیصد) فریز کر کے پہلے نمبر پر ہے، جبکہ کرناٹک نے رپورٹ کیے گئے 2640 کروڑ روپے میں سے 436 کروڑ روپے (17 فیصد) کامیابی سے منجمد کر کے عوام کی محنت کی کمائی کو ڈوبنے سے بچایا ہے۔ وزیر داخلہ کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جب سے حکومت نے جدید شکایات کے نظام متعارف کروائے ہیں، سائبر کرائم رپورٹ کرنے والے شہریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سال 2025 میں ویب پلیٹ فارم اور سال 2026 میں شروع کیے گئے واٹس ایپ چیٹ بوٹ کی وجہ سے اب متاثرین کے لیے پولیس وائرلیس یونٹ تک رسائی اور فوری کارروائی حاصل کرنا انتہائی آسان ہو گیا ہے۔




