ہلیال (فکروخبر نیوز) ہلیال میں ایک نامی گرامی راؤڈی (شرپسند) مَنجا کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر مبینہ حملے اور غنڈہ گردی کے معاملے میں محکمہ پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ڈیوٹی میں لاپرواہی اور امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی پر ہلیال پولیس اسٹیشن کے پی ایس آئی (پولیس سب انسپکٹر) بسوراج کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ تھانے کے 8 دیگر پولیس اہلکاروں کا مختلف مقامات پر تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ سی پی آئی (سرکل پولیس انسپکٹر) کو بھی محکمہ جاتی جانچ کے سلسلے میں نوٹس جاری کیا گیا ہے۔اتر کنڑا کے ضلع پولیس سربراہ ایس پی دیپن ایم این نے یہ سخت احکامات جاری کرتے ہوئے پورے معاملے کی تفصیلی انکوائری کا حکم دیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق اتوار کی دیر رات ہلیال شہر کے ‘موریا بار اینڈ ریسٹورنٹ’ کے پاس نشے میں دھت راؤڈی مَنجا نامی شخص ہنگامہ آرائی کر رہا تھا۔ مقامی لوگوں کی اطلاع پر جب پولیس اہلکار نندیش اور اشوک موقع پر پہنچے تو مذکورہ راؤڈی نے نہ صرف ان کا راستہ روکا بلکہ ان کے ساتھ مارپیٹ کی اور جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پی ایس آئی بسوراج فوراً موقع پر پہنچے، لیکن وہ صورتحال پر قابو پانے اور خاطی کے خلاف بروقت کارروائی کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ محکمہ پولیس نے ڈیوٹی میں کوتاہی کو سنگین مانا ہے اور محکمانہ سطح پر تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایس پی کے مطابق جانچ رپورٹ کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ دوسری طرف پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے والے راؤڈی مَنجا کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے اور یہ معاملہ اس وقت عوامی اور سرکاری حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔




