10 لاکھ روپے اینٹھنے کے لیے مسلم نوجوانوں کولوجہاد کیس میں پھنسانے والا نام نہاد ہندوتوا لیڈر گرفتار

اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں پولیس نے دو مسلم نوجوانوں کو ‘لو جہاد’ اور گینگ ریپ جیسے سنگین اور جھوٹے الزامات میں پھنسانے کی ایک گہری سازش کو بے نقاب کر دیا ہے۔ میرٹھ پولیس نے تندہی سے کارروائی کرتے ہوئے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) سے وابستہ ایک نام نہاد ہندوتوا لیڈر نکول گوجر کو اس ہولناک سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ دستیا ب رپورٹوں کے مطابق، یہ پوری سازش مسلم نوجوانوں کو بدنام کرنے اور ان سے خطیر رقم اینٹھنے کے مقصد سے رچی گئی تھی، لیکن پولیس کی باریک بینی اور ایک لڑکی کے سچ اگلنے کے بعد یہ گھناؤنا منصوبہ چوپٹ ہو گیا۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق، گزشتہ ہفتہ کو جاگرتی وہار ایکسٹینشن کے علاقے میں نکول گوجر اور اس کے چند ساتھیوں نے ایک کار کو زبردستی روکا۔ اس کار میں ذیشان اور شاہویز نامی دو مسلم نوجوانوں کے ساتھ بھاونا نامی ایک 19 سالہ ہندو لڑکی سوار تھی۔ کار روکنے کے فوراً بعد نکول گوجر نے پولیس میں ایک باقاعدہ شکایت درج کرائی، جس میں اس نے الزام لگایا کہ ان مسلم نوجوانوں نے لڑکی کو اغوا کیا ہے اور اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سنگین شکایت کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر دونوں مسلم نوجوانوں کو حراست میں لے لیا تھا اور معاملے کی چھان بین شروع کر دی تھی۔

پولیس کی جانب سے جب اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی گئی اور کار میں سوار 19 سالہ لڑکی بھاونا سے طویل پوچھ گچھ کی گئی، تو اس نے ایک ایسا انکشاف کیا جس نے پولیس حکام کے بھی ہوش اڑا دیے۔ لڑکی نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ تقریباً 18 ماہ سے نکول گوجر کو جانتی ہے۔ نکول نے اسے مسلم نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے عوض بھاری رقم اور نوکری دینے کا لالچ دیا تھا۔ اسکیم کے تحت، ذیشان، جو گھریلو ملازمین فراہم کرنے والی ایک ایجنسی چلاتا ہے، سے نوکری کے بہانے رابطہ کیا گیا تھا۔ کار میں بیٹھنے سے ٹھیک پہلے بھاونا نے کار کی تصویر اور لائیو لوکیشن نکول گوجر کو شیئر کی تھی، تاکہ وہ اپنے غنڈوں کے ساتھ مڈ بھیڑ کا یہ ڈرامہ رچا سکے۔

تفتیش کے دوران یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ اس ڈرامے کا اصل مقصد دونوں مسلم نوجوانوں پر ‘لو جہاد’ اور گینگ ریپ کا جھوٹا الزام لگا کر ان کے خاندانوں سے 10 لاکھ روپے کا بھتہ وصول کرنا تھا۔ میرٹھ پولیس نے لڑکی کا میڈیکل ٹیسٹ کروایا جس میں وہ مکمل طور پر محفوظ پائی گئی اور دستاویزات کے ذریعے اس کی عمر 19 سال ہونے کی تصدیق ہوئی۔ مزید تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ گرفتار وی ایچ پی لیڈر نکول گوجر کا پرانا مجرمانہ ریکارڈ رہا ہے اور وہ پہلے بھی ایک گینگ ریپ کے کیس میں جیل جا چکا ہے اور فی الحال ضمانت پر باہر تھا۔ حال ہی میں اس کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں جیل سے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد اس کا ہار پہنا کر استقبال کیا جا رہا تھا۔

میرٹھ پولیس نے معاملے کی حقیقت سامنے آتے ہی فوری طور پر دونوں بے قصور مسلم نوجوانوں ذیشان اور شاہویز کو باعزت رہا کر دیا ہے اور ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو خارج کر دیا ہے۔ پولیس نے نکول گوجر اور اس کے دیگر نامعلوم ساتھیوں کے خلاف مجرمانہ سازش، جھوٹا مقدمہ درج کرانے اور بھتہ خوری کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر کے نکول گوجر کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کی مختلف ٹیمیں اس سازش میں شامل دیگر مفرور ملزمان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔

شیئر کریں۔