مغربی ایشیا میں جاری شدید کشیدگی اور لبنان پر اسرائیلی فوجی جارحیت کے معاملے پر ملک کے اندر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ کانگریس نے اس سنگین بین الاقوامی تنازع پر مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی مسلسل خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو مبینہ طور پر سخت سست کہنے کی خبروں کے بعد اپوزیشن جماعت کانگریس نے مرکزی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس کا موقف ہے کہ جہاں پوری دنیا اس انسانی بحران اور جنگی جنون کی مذمت کر رہی ہے، وہاں نئی دہلی کی خاموشی ملک کے تزویراتی اور اقتصادی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک انتہائی تیکھا اور تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے لکھا کہ خطے میں جنگ بندی اور امن قائم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ترین بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سفارتی عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کا براہ راست اور فوری مثبت اثر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے دوبارہ کھلنے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ جے رام رمیش کے مطابق ان دونوں ہی امور سے ہندوستان کے گہرے اقتصادی اور قومی مفادات جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ہندوستان کا اس معاملے میں متحرک ہونا ضروری ہے۔
کانگریس رہنما نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ یہ اہم سفارتی بات چیت اب تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے اور اس کی بنیادی وجہ لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جاری مسلسل فوجی کارروائی اور غیر معمولی زمینی و فضائی دراندازی ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے رویے پر شدید ناراضگی اور غصے کا اظہار کیا ہے، یہاں تک کہ نیتن یاہو کے خلاف سخت الفاظ بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو فون پر یہاں تک کہہ دیا کہ وہ بالکل پاگل ہو چکے ہیں اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔
جے رام رمیش نے دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے لبنان کی تباہی پر اسرائیل کو ٹوکنے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست نشانہ سادھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں مودی حکومت اسرائیل کے ذریعے لبنان کو نشانہ بنانے اور امریکہ-ایران امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں پر مکمل طور پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں ایک انتہائی سخت جملہ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ (ارضِ پدر) ان کے لیے ان کے اصل مدر لینڈ (وطنِ عزیز) سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے؟
اس پورے تنازع نے بین الاقوامی اسٹیج کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی اندرونی سیاست میں بھی خارجہ پالیسی کے ترجیحات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ مودی حکومت عالمی انسانی بحرانوں اور ہندوستان کے روایتی منصفانہ موقف سے پیچھے ہٹ کر یکطرفہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جو کہ خطے میں امن اور ملک کی توانائی کی سلامتی کے لیے تشویشناک ہے۔




