نیا مہینہ شروع ہونے کے ساتھ ہی ملک میں عام لوگوں کی روزمرہ کی مالیاتی سرگرمیوں سے منسلک کئی اہم تبدیلیاں نافذ ہو گئی ہیں۔ یکم جون سے لاگو ہونے والے ان نئے قوانین کا براہ راست اثر صارفین کی جیب اور ان کے لین دین کے طریقے پر پڑے گا۔ ان تبدیلیوں میں یو پی آئی سے ادائیگی کے نظام کو مزید محفوظ بنانا، اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کے قوانین میں ترمیم، پین کارڈ سے متعلق التزامات میں نرمی اور پیشگی ٹیکس (ایڈوانس ٹیکس) کی ادائیگی کی آخری تاریخ شامل ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کا مقصد ڈیجیٹل لین دین کو زیادہ محفوظ بنانا اور مالیاتی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
ڈیجیٹل انڈیا کے تحت یو پی آئی ادائیگی کے نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ اب صرف 4 یا 6 ہندسوں والے روایتی یو پی آئی پن کی بنیاد پر بڑے لین دین نہیں کیے جا سکیں گے۔ گوگل پے، فون پے اور پے ٹی ایم جیسے مقبول ایپس پر بڑی رقم کی منتقلی کے لیے اضافی تصدیق کی ضرورت پڑے گی، جس میں فنگر پرنٹ، فیس ریکگنیشن یا ڈیوائس پر مبنی ٹو-فیکٹر آتھنٹیکیشن (دو متبادل تصدیقی نظام) شامل ہو سکتا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے معاملات کو روکنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یو پی آئی ایپس پر اب ادائیگی کرنے سے پہلے وصول کنندہ کا تصدیق شدہ آفیشیل نام اسکرین پر دکھائی دے گا، تاکہ غلط کھاتے میں پیسے بھیجنے کا امکان ختم ہو سکے۔
ٹیکس دہندگان کے لیے رواں مہینے کی 15 تاریخ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے پیشگی ٹیکس (ایڈوانس ٹیکس) کی پہلی قسط جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون مقرر کی گئی ہے۔ جن افراد یا اداروں کا مجموعی سالانہ ٹیکس 10 ہزار روپے سے زائد بنتا ہے، انہیں اس تاریخ تک اپنے متوقع ٹیکس کا 15 فیصد ادا کرنا لازمی ہوگا۔ مقررہ وقت پر ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں صارفین کو فی ماہ ایک فیصد سود کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف، ریپو ریٹ اور سود کی شرحوں کے حوالے سے عوام کی نظریں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس پر ٹکی ہیں جو 3 سے 5 جون کے درمیان منعقد ہو رہا ہے، جہاں سے ہوم لون کی ای ایم آئی اور فکسڈ ڈیپازٹ کے مستقبل کا تعین ہوگا۔
مہنگائی کے محاذ پر کمرشیل ایل پی جی صارفین کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے یکم جون سے 19 کلو والے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ دہلی میں کمرشیل سلنڈر کی قیمت 42 روپے کے اضافے کے ساتھ 3113.50 روپے جبکہ کولکاتہ میں 53.50 روپے کے اضافے کے بعد 3255.50 روپے فی سلنڈر ہو گئی ہے۔ ایندھن اور ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ تاہم، گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں کو برقرار رکھا گیا ہے، جس سے عام ہاؤس وائف کو بڑی راحت ملی ہے۔ اس کے علاوہ، اب یو پی آئی کے ذریعے کارڈ لیس اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کو بھی بینک کے ماہانہ مفت لین دین کی حد میں شمار کیا جائے گا اور حد ختم ہونے پر اضافی فیس لاگو ہوگی۔
نئے قوانین کے تحت عام شہریوں کو پین کارڈ کے استعمال میں کچھ بڑی راحتیں بھی دی گئی ہیں۔ اب 50 ہزار روپے سے زائد کی عام نقد رقم جمع کرنے کے لیے پین کارڈ کی شرط ختم کر دی گئی ہے، البتہ ایک مالی سال میں 10 لاکھ روپے یا اس سے زائد کے نقد لین دین پر پرانے قواعد لاگو رہیں گے۔ غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کے معاملے میں بھی پین نمبر فراہم کرنے کی حد کو 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ ملازمین کے لیے ایک اور خوش آئند پیش رفت یہ ہے کہ ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) ایک ایسے نظام پر کام کر رہا ہے جس کے تحت ملازمین مستقبل میں یو پی آئی کے ذریعے اپنا پی ایف فنڈ تیزی سے نکال سکیں گے، جس سے روایتی کاغذی کارروائی اور تاخیر کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔




