کاروار/ بھٹکل (فکروخبر نیوز): ساحلی کرناٹک کے ضلع اتر کنڑا میں مانسون کی آمد اور امسال متوقع بھاری بارشوں کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے تمام واٹر اسپورٹس، ریور رافٹنگ اور سمندری تفریحی سرگرمیوں پر عارضی طور پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ضلع اتر کنڑا کی ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA) کی چیئرپرسن محترمہ لکشمی پریا (IAS) نے 31 مئی 2026 کو ایک سرکاری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ پابندی یکم جون 2026 سے 31 اگست 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مانسون کے دوران سمندر، دریاؤں اور جھیلوں میں ہونے والے ممکنہ حادثات کو روکنا اور انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
سرکاری آرڈر کے مطابق مانسون کے دوران ضلع کے دریاؤں اور ساحلی علاقوں میں پانی کے تیز بہاؤ، اچانک آنے والے سیلاب، تیز ہواؤں اور سمندر میں اٹھنے والی بلند لہروں کے باعث سیاحوں اور عام شہریوں کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اسی کے پیشِ نظر ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کی دفعات 33 اور 34 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے یکم جون سے اگست کے اختتام تک ریور رافٹنگ، دریاؤں، ڈیموں اور جھیلوں میں بوٹنگ، اور ہر قسم کے واٹر اسپورٹس (جیسے جیٹ اسکینگ، کایاکنگ، بنانا رائیڈ، پیرا سیلنگ اور اسپیڈ بوٹ رائیڈ) پر سخت روک لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ سکوبا ڈائیونگ، زیرِ آب تفریحی سرگرمیاں اور اتر کنڑا کے ساحلی علاقوں میں ہونے والی تجارتی یا سیاحتی مہم جوئی پر بھی مکمل پابندی رہے گی۔
ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے پولیس سپرنٹنڈنٹ (SP)، اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداروں، محکمہ سیاحت اور محکمہ ماہی گیری کے اعلیٰ حکام سمیت تمام بلدیاتی اداروں اور پنچایت ڈیولپمنٹ افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ تمام ٹورسٹ آپریٹرز، ایجنسیوں اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ان ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ انتظامیہ نے صاف لفظوں میں متنبہ کیا ہے کہ اگر کوئی بھی فرد یا ایجنسی اس سرکاری حکم کی خلاف ورزی کرتی ہوئی پائی گئی، تو اس کے خلاف ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کی دفعہ 51 سے 60 کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔




