میرٹھ: پی ایم مودی اور سی ایم یوگی پر تبصرہ کرنے والا بزرگ مسلم گرفتار، فرضی کیس بنانے والے ہندونوجوان کو رعایت

اترپردیش کے شہر میرٹھ میں پولیس نے ایک مقامی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف سخت تبصرہ کرنے والے ایک بزرگ مسلم شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔ دوسری جانب اسی شہر میں ایک اور واقعے نے پولیس کی کارروائی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں جہاں ایک ہندو نوجوان کو فرقہ وارانہ نوعیت کی جھوٹی شکایت درج کرانے کے باوجود محض وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اٹھائیس مئی کو میرٹھ کے رہائشی احسان نامی بزرگ نے ایک مقامی نیوز چینل ٹرو بھارت کو انٹرویو دیا تھا۔ اس دوران انہوں نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کو مبینہ طور پر غنڈہ قرار دیا اور وزیر اعظم کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے۔ جب انٹرویو لینے والے رپورٹر نے مودی کو مہاراجہ کہا تو بزرگ نے جواب دیا کہ وہ مہاراجہ نہیں ہیں بلکہ سب سے بڑے غنڈے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے وندے ماترم گانے کے دباؤ پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ان کے لیے اللہ سب سے بڑا ہے۔

انٹرویو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد میرٹھ پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے 29 مئی کو احسان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ ان پر آئینی عہدیداروں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور چند گھنٹوں کے اندر ہی انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ معمر شخص لنگڑا کر چل رہا ہے اور دو اہلکاروں کی حراست میں اپنے کان پکڑے ہوئے ہے۔

اس گرفتاری کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متضاد رویے پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ اسی دن میرٹھ میں پنیت نامی ایک ہندو نوجوان نے اپنے گھر کے باہر خود گوشت کا تھیلا رکھ کر پولیس کو جھوٹی شکایت درج کرائی تھی تاکہ علاقے کا ماحول خراب کیا جا سکے۔ تاہم جب سی سی ٹی وی فوٹیج سے اس کی حقیقت سامنے آ گئی تو پولیس نے اس سنگین حرکت پر باقاعدہ مقدمہ درج کرنے کے بجائے اسے صرف تنبیہ کر کے جانے دیا۔

یہ متضاد کارروائی نظام انصاف اور قانون کے یکساں اطلاق پر کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ایک طرف محض زبانی تبصرے پر ایک بزرگ شہری کو فوری گرفتار کر کے اس کی تذلیل کی گئی، جبکہ دوسری جانب فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی دانستہ کوشش کرنے والے کو قانونی کارروائی سے بچا لیا گیا۔ یہ صورتحال اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک اور جمہوری معاشرے میں قانون کی عملداری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر رہی ہے۔

شیئر کریں۔