جموں کشمیر : عید پوسٹ پر تنازع، کانونٹ اسکول کی پرنسپل کو ویڈیو پیغام جاری کر مانگنی پڑی معافی

جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں واقع پریزنٹیشن کانونٹ ہائی اسکول کی جانب سے کی گئی ایک عید مبارک پوسٹ پر تنازع کھڑا ہونے کے بعد اسکول انتظامیہ نے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب اسکول کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ستائیس مئی کو عید کی مبارکباد کے لیے ایک تصویر شیئر کی گئی تھی جس میں دیگر جانوروں کے ساتھ گائے کی تصویر بھی شامل تھی۔ اس تصویر کے سامنے آنے کے بعد ایک مخصوص طبقے کے مذہبی جذبات مجروح ہونے پر سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔

سوشل میڈیا پر اعتراضات اور بحث شروع ہونے کے فوری بعد اسکول انتظامیہ نے متعلقہ پوسٹ کو اپنے پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا۔ بعد ازاں اسکول کی پرنسپل سسٹر بریجٹ نے ایک باضابطہ ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے واقعے پر غیر مشروط معافی کا اعلان کیا۔ پرنسپل نے وضاحت کی کہ یہ تصویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ایک مبارکبادی ٹیمپلیٹ کا حصہ تھی۔ اس پوسٹ کا مقصد محض عید کے پرمسرت موقع پر نیک تمناؤں، بھائی چارے اور خیرسگالی کا اظہار کرنا تھا اور کسی بھی برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ان کا ہرگز ارادہ نہیں تھا۔

گائے کو ہندو برادری میں مقدس حیثیت حاصل ہے جس کی وجہ سے اس جانور کو عید کے تہوار کی مبارکباد کے ساتھ جوڑنے پر سوشل میڈیا صارفین نے اعتراض کیا۔ پرنسپل سسٹر بریجٹ نے تسلیم کیا کہ یہ ایک انسانی غلطی تھی جس پر ان کی توجہ نہیں جا سکی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیسے ہی انتظامیہ کو احساس ہوا کہ اس سے ایک کمیونٹی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، پوسٹ کو فوری طور پر ڈیلیٹ کر دیا گیا۔

اسکول کی جانب سے جاری کردہ معافی نامے میں متاثرہ افراد سے دلی معذرت کی گئی ہے۔ اسکول انتظامیہ نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ادارہ تمام مذاہب، روایات اور عقائد کا یکساں احترام کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی احترام ان کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں۔ اس فوری اور غیر مشروط معافی کو علاقے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم اور مثبت کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مستقبل میں اس قسم کی غلطیوں اور غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے اسکول انتظامیہ نے اپنے سوشل میڈیا اور کمیونیکیشن کے طریقہ کار میں ضروری اصلاحی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ پرنسپل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کے طور پر وہ عوامی سطح پر جاری ہونے والے ہر پیغام میں حساسیت اور ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھتی ہیں اور آئندہ زیادہ احتیاط برتی جائے گی۔

جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں، وہاں تعلیمی اداروں کا کردار بھائی چارے کے فروغ میں انتہائی اہم ہوتا ہے۔ ریاسی کے کانونٹ اسکول کی جانب سے بروقت معافی مانگ کر معاملے کو سلجھانا سماجی امن کو برقرار رکھنے کی سمت میں ایک ذمے دارانہ قدم ثابت ہوا ہے۔

شیئر کریں۔