نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی منڈیوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے درمیان بھارت نے پٹرول، ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول کی برآمدات پر عائد ڈیوٹی میں کمی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت نئی شرحیں یکم جون 2026 سے آئندہ پندرہ روز کے لیے نافذ العمل ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو مقامی معیشت کے ساتھ متوازن کرنا ہے۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق اب پٹرول کی برآمد پر ڈیوٹی ایک اعشاریہ پانچ روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل پر یہ شرح تیرہ اعشاریہ پانچ روپے فی لیٹر اور ایوی ایشن ٹربائن فیول پر نو اعشاریہ پانچ روپے فی لیٹر طے کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت ہر پندرہ دن بعد عالمی منڈی میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی اوسط قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے اور اسی بنیاد پر ان شرحوں میں ردوبدل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق پٹرول پر برآمدی ڈیوٹی میں یہ نمایاں کمی عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں نرمی کے باعث کی گئی ہے، جبکہ ڈیزل اور ہوائی ایندھن پر عالمی طلب بلند ہونے کی وجہ سے نسبتاً زیادہ ڈیوٹی برقرار رکھی گئی ہے۔
مرکزی حکومت نے ستائیس مارچ 2026 کو مغربی ایشیا کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی اور روڈ اینڈ انفراسٹرکچر سیس نافذ کیا تھا۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملک کے اندر پٹرولیم مصنوعات کی وافر دستیابی کو یقینی بنانا اور مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو نظر انداز کر کے منافع خوری کے لیے ہونے والی غیر ضروری برآمدات کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ حکومت کی جانب سے یہ قدم توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔
حکومت نے اس بات کی واضح یقین دہانی کرائی ہے کہ برآمدی ڈیوٹی میں اس حالیہ کٹوتی کا ملک کے اندر پٹرول اور ڈیزل کی ریٹیل قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مقامی کھپت کے لیے عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ عام شہریوں کو پٹرول پمپس پر ایندھن پرانی قیمتوں پر ہی دستیاب ہوگا۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ یہ اقدام توانائی کے تحفظ اور مقامی سطح پر مہنگائی پر قابو پانے کی جامع حکومتی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے جس سے ملکی ریفائنریز کو بھی عالمی مسابقت میں توازن برقرار رکھنے کا موقع ملے گا۔




