بھٹکل (فکروخبرنیوز) بھٹکل میں عید الاضحیٰ جوش و خروش اور والہانہ مسرت کے ساتھ منائی گئی۔ علاقے میں بارش کے قوی امکانات اور پیشِ گوئی کے پیشِ نظر امسال عیدگاہ کے بجائے شہر کی دونوں مرکزی جامع مساجد اور تمام محلہ کے جمعہ مساجد میں عید الاضحیٰ کی دوگانہ ادا کی گئی۔ صبح سات اور سوا سات بجے کے اوقات میں نمازِ عید کے لیے تمام مساجد نمازیوں سے مکمل طور پر بھر گئیں، جس کے بعد جہاں جگہ ملی مسلمانوں نے صفیں درست کر کے دوگانہ ادا کی، اللہ رب العزت کا شکر بجا لائے اور نماز کے فوراً بعد گلے مل کر ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے بے پناہ محبت کا تبادلہ کیا۔ نمازِ عید کی تکمیل کے ساتھ ہی بھٹکل اور مضافاتی علاقوں میں سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں قربانی کا عمل شروع ہوا اور مسلمانوں نے اپنی وسعت کے مطابق بارگاہِ الٰہی میں قربانیاں پیش کیں۔
جامع مسجد بھٹکل میں عید الاضحیٰ کے پروقار اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین مولانا عبدالعلیم ندوی نے امتِ مسلمہ کو عید کی دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اپنے فکر انگیز خطاب میں عید الاضحی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عید الاضحیٰ محض ایک روایتی خوشی، تہوار یا رسم کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایمان کی تجدید، اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین، بے لوث قربانی کے جذبے، اتحادِ امت اور ملتِ اسلامیہ کے روشن مستقبل کی فکر کا ایک عظیم الشان پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عید کا دن طویل عبادت، محنت اور قربانی کے بعد رب کی طرف سے راحت و سکون کا انعام ہوتا ہے، لیکن اس کا اصل مقصد انسانی دلوں میں اللہ کی عظمت، توحید اور اخلاصِ نیت کو زندہ کرنا ہے۔ تکبیراتِ عید دراصل ایمان کو جلا بخشنے اور اللہ سے تعلق کو مستحکم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
مولانا عبدالعلیم ندوی نے نمازِ عید کو اتحاد کا محور قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ باجماعت نماز مسلمانوں کو باہمی اتفاق کا درس دیتی ہے۔ جس طرح تمام مسلمان ایک امام کے پیچھے صف بستہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہیں، ٹھیک اسی طرح امت کو اپنے اجتماعی، سماجی، سیاسی اور ملی مسائل میں بھی تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔ امت کی حقیقی قوت اس کے اتحاد میں پوشیدہ ہے اور باہمی اختلاف و انتشار ہمیشہ باطل قوتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بے مثال قربانی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہر باطل قوت کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا اور الٰہی حکم کے مقابلے میں دنیا کی کسی مادی طاقت کو اہمیت نہیں دی۔ آج والدین کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت محض دنیاوی ڈگریوں، ملازمتوں اور مادی کامیابیوں کے لیے نہ کریں، بلکہ ان میں ایمان، یقین اور آخرت کا شعور پیدا کریں۔
اپنے خطاب کے دوران مولانا نے مسلم نوجوانوں کی فکری صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ اور طاقت ہوتے ہیں، اس لیے وقت کا اہم تقاضا ہے کہ ان کی صحیح دینی و فکری رہنمائی کی جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ نوجوانوں کے پاکیزہ جذبات اور توانائیوں کو ذاتی مفادات یا وقتی جذباتی نعروں کے لیے استعمال کرنا ملت کے ساتھ شدید ناانصافی ہے۔ دورِ حاضر میں امت کے اندر سے قربانی اور دین کے لیے جینے مرنے کا جذبہ کمزور کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن مسلمانوں کو اپنے عقیدے اور اسلامی شناخت پر مضبوطی سے قائم رہنا ہوگا۔ انہوں نے مسلمانوں سے طویل المدتی منصوبہ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جہاں عالمی طاقتیں طویل المدتی منصوبے بنا رہی ہیں، وہیں مسلمان وقتی جذبات میں الجھ جاتے ہیں۔ ملت کو دور اندیشی، حکمت عملی اور اجتماعی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور آپسی محبت، معافی اور ایک دوسرے کی ترقی پر خوش ہونے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔




