بھٹکل’مورین کٹے‘ تنازعہ: افواہوں سے کشیدگی پھیلی، ایس پی کی وضاحت

چار مقدمات درج ,بھاری پولیس نفری تعینات،ایس پی کی امن برقرار رکھنے کی تاکید

بھٹکل میں گزشتہ شب پیش آئے ’مورین کٹے‘ تنازعہ کے بعد اترکنڑا ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایم نارائنا دیپک نے واضح کیا ہے کہ اصل مورین کٹے ڈھانچہ اپنی جگہ محفوظ ہے اور اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی بعض خبروں اور ویڈیوز کی وجہ سے عوام میں غلط فہمی پیدا ہوئی، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول بن گیا۔

ایس پی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مورین کٹے کا موجودہ مقام سڑک کے عین درمیان میں واقع ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک اور حادثات کے خدشات پیدا ہو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کشادگی منصوبے اور عوامی تحفظ کے پیش نظر متعلقہ حکام اور بعض ذمہ دار افراد کی مشاورت سے قریبی سرکاری زمین پر ایک چھوٹا پلیٹ فارم تعمیر کیا جا رہا تھا تاکہ مستقبل میں ڈھانچے کو وہاں منتقل کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ 24 مئی کی صبح اس پلیٹ فارم کی تعمیر شروع ہوئی تھی، تاہم بارش کی وجہ سے کام مکمل نہیں ہو سکا۔ بعد ازاں شام کے وقت ایک ویڈیو واٹس ایپ پر وائرل ہوئی، جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہوگئے۔ پولیس کے مطابق مشتعل افراد نے اس نئے تعمیر شدہ پلیٹ فارم کو نقصان پہنچایا، جبکہ اصل مورین کٹے کو ہاتھ نہیں لگایا گیا۔

ایس پی ایم نارائنا دیپک نے زور دے کر کہا کہ “اصل مورین کٹے مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسی مقام پر موجود ہے۔ وہاں پولیس بندوبست بھی فراہم کیا گیا ہے۔” انہوں نے کہا کہ صرف وہ چھوٹا پتھریلا پلیٹ فارم متاثر ہوا ہے جو ممکنہ منتقلی کے لیے بنایا جا رہا تھا۔

پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں بھٹکل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں چار مقدمات درج کیے ہیں۔ ان میں پولیس پر حملہ، قومی شاہراہ پر رکاوٹ پیدا کرنے، ایک زخمی شخص کی شکایت، اور سوشل میڈیا پر وائرل پیغام کے ذریعے لوگوں کو جمع ہونے کی مبینہ اپیل جیسے معاملات شامل ہیں۔ ایس پی نے کہا کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پولیس کے مطابق رات دیر گئے افسران نے مقامی افراد سے بات چیت کر کے حالات کو قابو میں کیا اور مجمع کو منتشر کیا گیا۔ اس کے بعد علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ ضلع پولیس سربراہ نے بتایا کہ اس وقت بھٹکل میں 9 کے ایس آر پی پلاٹون، 6 ڈی اے آر ٹیمیں اور 300 سے زائد پولیس اہلکار مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔

انتظامیہ نے حالات کو دیکھتے ہوئے بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات بھی نافذ کر دیے ہیں۔ پولیس ٹیمیں شہر بھر میں گشت کر رہی ہیں اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ پولیس مقامی بیٹ اسٹاف کے ذریعے بھی لوگوں تک صحیح معلومات پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مزید افواہوں اور غلط فہمیوں کو روکا جا سکے۔

ایس پی نے عوام کو خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر بعض عناصر یہ تاثر پھیلا رہے ہیں کہ اصل مورین کٹے کو منہدم کر دیا گیا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل ڈھانچہ محفوظ ہے اور پولیس کی نگرانی میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ کے اقدامات تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد ضلعی انتظامیہ طے کرے گی۔

شیئر کریں۔