جموں یونیورسٹی نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تعلیمی اخراجات کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک شاندار قدم اٹھایا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ‘ارن وائل یو لرن’ یعنی پڑھائی کے ساتھ کمائی اسکیم کا باقاعدہ آغاز کیا ہے جس کے تحت طلبا کیمپس کے اندر ہی پارٹ ٹائم کام کر کے ہر ماہ چونسٹھ سو روپے تک کی خطیر رقم کما سکیں گے۔ اس فیصلے سے ان ہزاروں طلبا کو سیدھا فائدہ پہنچے گا جو اپنے ہاسٹل، کتابوں اور روزمرہ اخراجات کے لیے پریشان رہتے ہیں۔
اس منفرد منصوبے کے تحت کام کرنے والے طلبا کو دو سو روپے فی گھنٹہ کے حساب سے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ تعلیمی سرگرمیاں اور کلاسز متاثر نہ ہوں، اس مقصد کے پیش نظر انتظامیہ نے کام کے اوقات کو ہفتے میں زیادہ سے زیادہ آٹھ گھنٹے تک محدود رکھا ہے۔ انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی کے وہ تمام طلبا اس اسکیم کا حصہ بن سکتے ہیں جن کے کم از کم پینتالیس فیصد نمبر ہوں۔ تاہم وہ طلبا جو پہلے ہی کسی قسم کی فیلوشپ، اسکالرشپ یا اسٹائپنڈ حاصل کر رہے ہیں، اس سہولت کے اہل نہیں ہوں گے۔ طلبا کی محنت کی کمائی مکمل شفافیت کے ساتھ براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔
ملک بھر کی کئی بڑی یونیورسٹیوں میں اس طرح کے ماڈلز پہلے سے کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں، اور اب جموں یونیورسٹی نے بھی جدید تعلیمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اکیڈمک امور کے ڈین پروفیسر جے پی سنگھ جوریل نے واضح کیا ہے کہ اس منصوبے میں مالی طور پر کمزور اور ضرورت مند طلبا کو خاص طور پر ترجیح دی جائے گی۔ مختلف تعلیمی اور انتظامی شعبے اپنی ضروریات کے مطابق طلبا کی مانگ پیش کریں گے جس کے بعد ایک باقاعدہ کمیٹی میرٹ، صلاحیت، کمپیوٹر کی معلومات اور ہم نصابی سرگرمیوں میں کارکردگی کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کرے گی۔
طلبا اس اسکیم کے تحت مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے جن میں لائبریری اور لیبارٹری میں معاونت، ڈیٹا انٹری، دفتری امور، ہاسٹل اور گیسٹ ہاؤس کی دیکھ بھال اور تقریبات کا انعقاد شامل ہے۔ اس سے نہ صرف یونیورسٹی کے انتظامی کاموں میں تیزی آئے گی بلکہ نوجوانوں میں عملی کام کا تجربہ اور خود انحصاری کا جذبہ بھی پیدا ہوگا۔ کیمپس میں کام کرنے کی وجہ سے طلبا کو باہر ملازمت تلاش کرنے کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ان کا وقت اور توانائی دونوں محفوظ رہیں گے۔
یونیورسٹی کے اس فیصلے کا طلبا کی جانب سے زبردست خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ طلبا کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ انہیں مالی طور پر خودمختار بنانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی پیشہ ورانہ زندگی کے لیے بھی تیار کرے گا۔ آنے والے دنوں میں شعبہ جات کے سربراہان منتخب طلبا کی کارکردگی کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کریں گے جس سے اندازہ ہوگا کہ اس اسکیم کو مزید کن محکموں تک وسعت دی جا سکتی ہے۔ یہ اقدام معاشی طور پر کمزور خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کو دور کرنے کا باعث بنے گا۔



