کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ نے مقتول آدتیہ کی دادی کو دیا دلاسہ، مجرموں کو سخت سزا دلانے کا وعدہ

اتر پردیش کے سہارنپور ضلع میں واقع عیسوپور گاؤں میں نوجوان آدتیہ کھٹانا کے لرزہ خیز قتل کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر برقرار ہے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے متاثرہ خاندان کے گھر پہنچ کر ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایک انتہائی جذباتی منظر دیکھنے کو ملا جب مقتول کی ضعیف دادی رکن پارلیمنٹ کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں اور اپنے پوتے کے لیے انصاف کی دہائی دی۔

رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے متاثرہ خاندان کی ڈھارس بندھاتے ہوئے انہیں ہر ممکن قانونی اور اخلاقی مدد کا یقین دلایا۔ انہوں نے مہلوک کی والدہ اور دادی کو تسلی دی اور غم کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے متاثرہ خاندان کو فوری طور پر ایک لاکھ روپے کی مالی امداد بھی فراہم کی۔ اقرا حسن نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے مقامی پولیس اور اعلیٰ حکام کو ہدایت دی کہ وہ غیر جانبدارانہ اور گہری تفتیش کو یقینی بنائیں تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں اور مجرموں کو کڑی سزا مل سکے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق اکیس سالہ آدتیہ گزشتہ تین سالوں سے گنگوہ تھانہ علاقے کے عیسوپور گاؤں میں واقع قابض سنگھ آئی ٹی آئی کالج میں بطور سیکیورٹی گارڈ فرائض انجام دے رہا تھا۔ دس مئی کی صبح اس کی خون آلود لاش کالج سے کچھ فاصلے پر ایک کھیت سے برآمد ہوئی تھی۔ لاش پر تیز دھار ہتھیار کے کئی گہرے زخم موجود تھے اور آنکھ پر بھی شدید چوٹ کے نشانات پائے گئے تھے۔ اس لرزہ خیز قتل کی خبر ملتے ہی مقامی لوگوں میں شدید اشتعال پھیل گیا تھا اور انہوں نے لاش سڑک پر رکھ کر کئی گھنٹوں تک احتجاج کیا تھا۔

اس احتجاج اور دباؤ کے بعد پولیس نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے ایک پولیس مقابلے کے بعد کلیدی ملزم آشو کو گرفتار کر لیا تھا۔ تاہم واقعے کے تقریباً دو ہفتے گزر جانے کے بعد بھی گاؤں کی فضا سوگوار ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ آدتیہ ایک محنتی اور شریف النفس نوجوان تھا جو اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا۔ اس کی موت نے پورے خاندان کو معاشی اور جذباتی طور پر توڑ کر رکھ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اقرا حسن اور متاثرہ دادی کی ملاقات کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جسے لوگ انسانی ہمدردی اور انصاف کی پکار کی ایک بڑی مثال قرار دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کی تفتیش کس سمت آگے بڑھتی ہے اور متاثرہ خاندان کو عدالت سے کس حد تک اور کتنی جلدی انصاف مل پاتا ہے۔ مقامی عوام اور اقرا حسن کی جانب سے انتظامیہ پر مسلسل دباؤ بنایا جا رہا ہے کہ اس لرزہ خیز قتل میں ملوث کسی بھی مجرم کو بخشا نہ جائے۔

شیئر کریں۔