از : ریاض الرحمن اکرمی ندوی
جب ذی الحجہ کے بابرکت دن شروع ہوتے ہیں تو گھروں میں ایک خاص روحانی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر بچے اس موقع کو خوشی، کھیل کود اور جانوروں کے ساتھ وقت گزارنے کا موسم سمجھتے ہیں۔ یہ فطری بات ہے، مگر یہی وہ بہترین وقت ہے جب ہم ان کے معصوم دلوں میں قربانی کی اصل روح اور مقصد کو خوبصورت انداز میں بٹھا سکتے ہیں۔
بچوں کی صحیح رہنمائی کے لیے ہمیں درج ذیل باتوں پر خاص توجہ دینی چاہیے:
قربانی کی حقیقت سمجھائیں:
قربانی محض ایک رسم نہیں بلکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت، صبر اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی یادگار ہے۔ یہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے۔
جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک سکھائیں:
بچوں کو یہ ضرور بتائیں کہ قربانی کے جانور اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں۔ ان کے ساتھ محبت، نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ انہیں ستانا، ڈرانا یا تکلیف دینا گناہ ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔
شعائرِ اللہ کی عظمت دلوں میں پیدا کریں:
بچوں کے دلوں میں اللہ کی نشانیوں کی عظمت پیدا کریں۔ ان بابرکت دنوں میں انہیں تکبیرات (اللہ اکبر، اللہ اکبر…) پڑھنے کی ترغیب دیں تاکہ ان کا دل اللہ کی یاد سے جڑا رہے۔
قربانی کا واقعہ بار بار سنائیں:
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قربانی کے واقعے کو محبت بھرے انداز میں بار بار سنائیں تاکہ بچوں کے دلوں میں اطاعت، صبر اور اللہ پر بھروسہ پیدا ہو۔
صحابہ اور نبی کریم ﷺ کی قربانیاں بیان کریں؛
بچوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی زندگی کے وہ واقعات سنائیں جن میں انہوں نے دین اسلام کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔ اس سے بچوں کے اندر دین کے لیے محبت اور جذبہ پیدا ہوگا۔
عملی تربیت بھی دیں:
بچوں کو قربانی کے عمل میں شامل کریں—جیسے جانور کو پانی دینا، اس کی دیکھ بھال کرنا، اور گوشت کی تقسیم میں حصہ لینا—تاکہ وہ سیکھیں کہ یہ عبادت خدمت، ایثار اور دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا نام ہے۔
ایثار اور ہمدردی کا درس دیں:
انہیں یہ سمجھائیں کہ قربانی کا گوشت غریبوں، محتاجوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کرنا کتنا اہم ہے۔ اس سے بچوں کے اندر دوسروں کا خیال رکھنے اور ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
آئیے ہم سب مل کر عہد کریں:
ہم اپنے بچوں کی ایسی تربیت کریں گے کہ ان کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا جذبۂ اطاعت، حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا صبر، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی کامل سنت سے محبت پیدا ہو۔
ہم اپنے دلوں میں یہ عزم پیدا کریں کہ ہم بھی دینِ اسلام کے لیے تن، من اور دھن قربان کرنے کا جذبہ رکھیں گے۔
یہ عید ہمارے لیے صرف خوشیوں کا دن نہ ہو بلکہ غموں کا مداوا، دلوں کی صفائی، اور ایک نئی، بامقصد زندگی کا آغاز بن جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی اصل روح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔




