آن لائن ادویات کی فروخت کے خلاف کل ملک گیر ہڑتال,20 مئی کو ملک بھر میں میڈیکل اسٹورز بند,ملک بھر میں دواؤں کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ،

آن لائن ادویات کی غیر قانونی فروخت، کارپوریٹ کمپنیوں کی جانب سے غیر منصفانہ مقابلے اور ای فارمیسی پلیٹ فارمز کی من مانی کے خلاف آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ (AIOCD) نے 20 مئی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاج کے نتیجے میں ملک بھر کے 15 لاکھ سے زائد کیمسٹ اور ڈرگسٹ اپنے میڈیکل اسٹورز بند رکھیں گے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے دواؤں کی فراہمی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تنظیم کا موقف ہے کہ کارپوریٹ ہاؤسز اور آن لائن کمپنیوں کی اجارہ داری نے روایتی چھوٹے دکانداروں کا جینا محال کر دیا ہے۔

آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ کے صدر اور سابق ایم ایل سی جگن ناتھ شندے نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس احتجاج کا بنیادی مقصد حکومت ہند پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ کورونا وبا (COVID-19) کے دوران جاری کیے گئے عارضی نوٹیفکیشنز کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وبا کے دوران عوام کی سہولت کے لیے آن لائن ہوم ڈیلیوری اور قواعد میں جو نرمی دی گئی تھی، اب وبائی صورتحال ختم ہونے کے کئی سال بعد بھی ای فارمیسی کمپنیاں اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں اور بغیر کسی مضبوط قانونی ڈھانچے کے ادویات کی دھڑلے سے فروخت جاری ہے۔

کیمسٹ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے مطابق ای فارمیسی پورٹلز پر اینٹی بائیوٹکس، شیڈولڈ ڈرگز اور یہاں تک کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ فرضی نسخوں پر بھی نشہ آور ادویات فروخت کی جا رہی ہیں، جو عوامی صحت بالخصوص نوجوان نسل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ کمپنیوں کی جانب سے 20 سے 50 فیصد تک کی بھاری چھوٹ (Deep Discounts) دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے گلی محلوں میں موجود چھوٹے میڈیکل اسٹورز معاشی طور پر تباہ ہو رہے ہیں اور ان کا کاروبار بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

اگرچہ اس ملک گیر ہڑتال کے باعث عام مارکیٹوں میں ادویات کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم تنظیم نے واضح کیا ہے کہ انسانی ہمدردی اور ہنگامی حالات کے پیش نظر ہسپتالوں سے منسلک میڈیکل اسٹورز اور ایمرجنسی فارمیسی سروسز کو اس بندش سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی مریض کی جان خطرے میں نہ پڑے۔ ایسوسی ایشن نے عام شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی زحمت سے بچنے کے لیے اپنی ضروری اور لائف سیونگ ادویات کا اسٹاک پہلے سے ہی مکمل کر لیں۔

ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری راجیو سنگھل نے مودی حکومت کو بھیجے گئے ایک میمورنڈم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے ای فارمیسی کمپنیوں پر سخت ضابطے لاگو کرنے اور روایتی دکانداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا، تو یہ احتجاج صرف ایک دن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں غیر معینہ مدت کے لیے تحریک شروع کی جا سکتی ہے۔

شیئر کریں۔