بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کی جانب سے اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ خزانہ بیزالیل اسموٹریچ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیاست میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ انتہا پسند یہودی رہنما اسموٹریچ نے یروشلم میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ عالمی عدالت کے پراسیکیوٹر نے ان کے خلاف باضابطہ طور پر وارنٹِ گرفتاری کی استدعا کی ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ نے اس متوقع قانونی کارروائی کو ریاستِ اسرائیل کے خلاف کھلا ’اعلانِ جنگ‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو چیلنج کیا ہے اور فوری طور پر مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع ایک قدیم فلسطینی گاؤں کو مسمار کرنے کا ظالمانہ حکم جاری کر دیا ہے۔
اگرچہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے ابھی تک اسموٹریچ کے خلاف عائد کردہ الزامات کی آفیشل دستاویزات پبلک نہیں کی ہیں، تاہم سفارتی اور عالمی قانونی ذرائع سے حاصل اطلاعات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے غیر قانونی یہودی بستیوں کی بڑے پیمانے پر توسیع اور فلسطینیوں کی نسل کشی و جبری بے دخلی میں مرکزی کردار ادا کرنے پر ان کے وارنٹِ گرفتاری کی استدعا کی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ نے بین الاقوامی عدالت کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک متعصب اور سیاسی ادارہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع اور اب وزیر خزانہ کے خلاف اس قسم کے اقدامات اسرائیل کے دفاعی حقوق پر حملہ ہیں اور صیہونی ریاست اپنے نام نہاد تاریخی، مذہبی اور قانونی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
اسرائیلی قیادت نے اپنی ناکامیوں کا ملبہ فلسطینی اتھارٹی پر ڈالتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ عالمی عدالت کو اسرائیلی وزراء کے خلاف متحرک کر رہی ہے۔ اسموٹریچ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ وہ فلسطینی حکومت کو سبق سکھانے کے لیے ہر ممکن معاشی اور انتظامی پابندیاں عائد کریں گے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق عالمی عدالت اسرائیلی وزیر خزانہ پر چوتھے جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلانے کی تیاری کر رہی ہے، کیونکہ بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ اراضی پر آبادی کا تناسب تبدیل کرنا اور مقامی شہریوں کو جبری بے دخل کرنا سنگین ترین جرم شمار ہوتا ہے۔ انتقامی کارروائی کے طور پر جس قدیم فلسطینی گاؤں کو مسمار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، وہ برسوں سے اسرائیل اور عالمی برادری کے درمیان تنازع کا مرکز رہا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔
اسرائیلی وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس میں عالمی قوانین کا مضحکہ اڑاتے ہوئے فخر کے ساتھ اعتراف کیا کہ ان کے دورِ اقتدار میں مغربی کنارے میں 103 نئی غیر قانونی یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 160 سے زائد زرعی آؤٹ پوسٹس قائم کر کے تقریباً ڈھائی لاکھ ایکڑ فلسطینی اراضی پر زبردستی کنٹرول حاصل کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ بستیاں تکنیکی طور پر خود اسرائیلی قوانین کے تحت بھی غیر قانونی ہیں، لیکن اسرائیلی دفاعی ادارے اور وزارتیں کھلے عام ان کی مالی اور عسکری معاونت کرتی ہیں۔ ایک اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مغربی کنارے کے علاقوں بی اور سی میں یہودی آباد کاروں کے مسلح تشدد اور دہشت گردی کے نتیجے میں 59 فلسطینی کمیونٹیز مکمل طور پر بے دخل ہو چکی ہیں اور 4 ہزار سے زائد کسان خاندان اپنے گھروں سے محروم کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ نومبر 2024 میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یواع گیلنٹ کے خلاف بھی جنگی جرائم کے پختہ شواہد کی بنیاد پر تاریخی گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔ اسرائیل چونکہ روم اسٹیچو کا دستخط کنندہ نہیں ہے، اس لیے وہ عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اوسلو معاہدوں کی آڑ لے کر فلسطینیوں پر مظالم کو قانونی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے ججوں پر مشتمل پری ٹرائل چیمبر کی جانب سے شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد اگر اسموٹریچ کے وارنٹ جاری کر دیے جاتے ہیں، تو عالمی سطح پر نیتن یاہو حکومت کی سفارتی تنہائی اور معاشی بائیکاٹ میں مزید اضافہ ہوگا اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کے تحت صیہونی حکومت کا گھیراؤ مزید سخت ہو جائے گا۔




