پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دوسری مرتبہ اضافہ پراپوزیشن برہم،

ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے تازہ اضافے کے بعد سیاسی درجہ حرارت شدید گرم ہو گیا ہے اور اپوزیشن نے مودی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست اور سخت ترین لفظوں میں معاشی حملے کیے ہیں۔ کانگریس صدر نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ حکومت معاشی محاذ پر اپنی مسلسل ناکامیوں اور غلط پالیسیوں کا بوجھ ملک کے غریب اور متوسط طبقے کے عوام پر ڈال رہی ہے، جو کہ عوامی مفادات اور معاشی انصاف کے اصولوں کے یکسر خلاف ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک تفصیلی اور تیکھے بیان میں ملکارجن کھڑگے نے قیمتوں میں حالیہ اضافے کو غریبوں پر معاشی ظلم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محض چند ہی دنوں کے اندر مودی حکومت نے دوبارہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ کانگریس صدر کے مطابق حکومت پہلے مہنگائی کو جواز فراہم کرنے کے لیے ایک خاص ماحول تیار کرتی ہے، شہریوں کو بچت اور کفایت شعاری کے غیر ضروری مشورے اور اپدیش دیے جاتے ہیں، اور پھر پس پردہ اپنی انتظامی اور معاشی ناکامیوں کی قیمت معصوم عوام سے وصول کی جاتی ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کی پالیسی کو ایک ’کمپرومائزڈ ماڈل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ماڈل کا اصل مقصد عوام کی لوٹ کھسوٹ کرنا اور مخصوص بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔

کانگریس صدر نے اپنی اس عوامی پوسٹ میں بین الاقوامی سفارت کاری اور روسی تیل کی خریداری کے معاملے کو بھی انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی نے بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر روسی تیل کی خریداری کے لیے صرف ایک ماہ کی توسیع حاصل کی ہے، جو کہ ملک کے تقریباً 140 کروڑ عوام کے وقار اور قومی خودداری کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے ماضی کی حکومتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں کسی بھی سابقہ حکومت نے عالمی برادری کے سامنے اس نوعیت کا کمزور رویہ اختیار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے یہ سیدھا سوال پوچھا کہ اگر عالمی مارکیٹ سے سستا روسی تیل خریدنے کی اجازت مل چکی ہے، تو پھر اس کا فائدہ ملک کے شہریوں کو دینے کے بجائے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا بھاری بوجھ عوام پر کیوں لادا جا رہا ہے اور عوام کو مہنگائی کی چکی میں کیوں پیسا جا رہا ہے۔

بی جے پی کی اعلیٰ قیادت پر اندرونی اور بیرونی حکمت عملی کے حوالے سے تنقید کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ موجودہ حکمراں جماعت میں دور اندیشی، مضبوط معاشی حکمت عملی اور حقیقی لیڈرشپ کا شدید فقدان ہے۔ جب بھی ملک کسی سنگین معاشی یا سماجی بحران کے دور سے گزر رہا ہوتا ہے، اس وقت بی جے پی کی پوری قیادت اور سرکاری مشینری صرف اور صرف انتخابی مہم اور سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف رہتی ہے۔ بحران ٹلنے کے بعد چکنی چپڑی باتوں اور کھوکھلے دعووں کے ذریعے عوام کو گمراہ کر کے لوٹ مار کے نئے منصوبے تیار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف بیرونی ممالک میں جا کر تشہیری مہم چلانے یا اشتہارات بازی کرنے سے کوئی بھی ملک دنیا کا قائد یا ’وشو گرو‘ نہیں بن جاتا، بلکہ اس کے لیے اپنے عوام کے تئیں حقیقی جوابدہی، سستی بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ ملک کے اصل اور بنیادی مسائل جیسے کہ بے روزگاری، کمر توڑ مہنگائی اور معاشی عدم مساوات سے شہریوں کی توجہ ہٹانے کی کوششیں بند کریں اور ان سوالات کے سیدھے جواب دیں جو براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر واضح کیا کہ اگر مودی حکومت واقعی ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کا خاکہ پیش کرتی ہے، تبھی وہ خود کو حقیقی معنوں میں ’پردھان سیوک‘ کہلانے کی حقدار ہو سکتی ہے، ورنہ تاریخ میں اس حکومت کو صرف ایک ’تشہیری حکومت‘ کے طور پر ہی یاد رکھا جائے گا جس کا عام آدمی کی فلاح و بہبود سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

شیئر کریں۔