تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)
قسط (1)
یہ 1969ء کی بات ہے، جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے قیام پر سات سال مکمل ہورہے تھے، اور اب یہ گوائی منزل، سوداگر بخار اور جامعہ مسجد بھٹکل سے منتقل ہوتے ہوتے شمس الدین سرکل کے قریب ساگر روڈ پر واقع جوکاکو مینشن میں منتقل ہوچکا تھا۔
جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے طلبہ کی اولین کھیپ جس میں مولانا محمد اقبال ملا، مولانا محمد صادق اکرمی اور مولانا محمد غزالی خطیبی شامل تھے، ندوۃ العلماء سے عالمیت کی سند حاصل کرچکی تھی ۔ اس وقت یہ ناچیز عربی سوم یا آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔
اس وقت تک اکابر علماء کی تسلسل سے بھٹکل آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، دو سال قبل حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒجامعہ کے اجلاس دوم میں تشریف لائے تھے، اور اس کے ایک سال بعد جامعہ کی دعوت پر مولانا سید صبغۃ اللہ بختیاری رحمۃ اللہ علیہ اور انجمن حامی مسلمین بھٹکل کی دعوت پراس قصبے کو اپنی زیارت سے مشرف کرچکے تھے، اور اب تیسرے سال حضرت مولانا ابرار الحق علیہ الرحمۃ خلیفہ حضرت حکیم الامت علیہ الرحمۃ کی آمد کا غلغلہ تھا۔
وہ لمحہ ہماری آنکھوں میں اب بھی گھوم رہا ہے جب کہ اساتذہ وطلبہ جوکاکو مینشن کی دہلیز پر حضرت کی آمد کے انتظار میں کھڑے تھے۔ درمیان ہال میں بید کی ایک کرسی پر سفید چاندنی بچھی ہوئی تھی۔ ظہر کی اذان کا وقت تھا، حضرت نے ابھی ہال میں قدم رکھا ہی تھا کہ عمارت کی چھت سے گونجتی ہوئی آذان کی آواز آپ کے کانوں سے ٹکرائی، ہمارے ایک محترم استاد جو اس وقت بائیس ، تئیس سال کی پیٹھے میں رہے ہونگے آذان دے رہے تھے، یہ استاد ابھی ایک سال قبل نئے نئے ایک دارالعلوم ندوۃ العلماء سے فارغ التحصیل ہوکر تدریس سے وابستہ ہوئے تھے، انہیں آذان، تکبیرات وغیرہ کے لئے آگے بڑھنے کا بڑا شوق تھا، طلبہ کو بھی اپنے مزاج کے مطابق وہ آگے بڑھاتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔حضرت کے کان میں آذان کی آواز کیا پڑی تو ایک رعب دار آواز گونجی، یہ کون ۔۔۔ آذان دے رہا ہے، تجوید مخارج وغیرہ کا کچھ پاس ولحاظ نہیں ہے۔ یہ مولانا ابرار الحق علیہ الرحمۃ کا پہلا تاثر تھا جو دلوں پر قائم ہوا۔ اور آپ کے انکار منکر کے بارے میں جو تصور اس وقت دل میں بیٹھا تو کبھی وہ دل سے زائل نہیں ہوا، اس پر فارسی کی وہ مشہور مثل ” گربہ کشتن روز اول” صادق آتی ہے ۔ جس کامفہوم ہے کہ کسی شخص کے بارے میں جو پہلا تاثر قائم ہوتا ہے وہ آخر تک رہتا ہے۔استاد کا جو رعب اپنے طالب علموں پر مدرسے کے پہلے روز پڑتا ہے، وہ مرتے دم تک رہتا ہے۔
مولانا کے اس سفر کی چند اور باتیں ذہن میں گردش کررہی ہیں، مثلا اس زمانے کے ایک اور طالب علم جو اپنی عمر اور جسامت میں مختصرسے ہوا کرتے تھے، ان کی تلاوت سے جامعہ کے تمام جلسے شروع ہوا کرتے تھے، جامع مسجد کے ایک جلسے میں جب انہوں نے حسب عادت مصری قاری عبد الباسط کے لہجے میں کھینچ تان کر تلاوت شروع کی تو وہاں بھی آپ نے اپنی تقریر میں تجوید اور مخارج کی اہمیت پر توجہ دلائی تھی۔
اس زمانے میں بھٹکل میں بجلی ابتدائی مرحلوں میں تھی، جلتی کم اور بجھتی زیادہ تھی، پٹرومکس اور لالٹین کا استعمال عام تھا، جن میں مٹی کا تیل استعمال ہوتا تھا، جو کہ اس زمانے میں بہت سستا اور راشن میں ملتا تھا۔ اس سے پہلے مسجدوں اور مزارات پر ناریل کے تیل کے دئے جلائے جاتے تھے۔ قمقموں میں گلاس رکھے جاتے، جن میں دو تہائی پانی اوراس پر ایک تہائی ناریل کا تیل تیر رہا ہوتا، ایک روئی کی بتی اس میں ٹین کے ذریعے رکھی جاتی جسے جلایا جاتا تو جب تک تیل جل نہیں جاتا تو یہ بتی روشنی دیتی۔ تیل ختم ہوتے ہی بتی گل ہوجاتی۔ ہمارے بچپن میں مسجد اور مزارات کو روشن کرنے کے لئے نقدی کے بجائے تیل کا چندہ ہوتا تھا۔ لیکن پھر ناریل کے تیل کی جگہ مٹی کا تیل عام ہوگیا، جو لالٹین اور پیٹرومکس جلانے اور دیواروں پر رنگ وروغن کے لئے بھی استعمال ہونے لگا۔ مولانا نے اس وقت مساجد میں خاص طور پر مٹی کے تیل کے استعمال کی ممانعت پر زور دیا تھا۔ اور اس کی بد بو کی وجہ سے فرشتوں کی آمد میں رکاوٹ پر اپنے مواعظ میں توجہ دلائی تھی۔
جب جامعہ قائم ہوا تھا تو بھٹکل کے ایک صاحب خیر تاجر یس یم بی سید محمد مرحوم کو سرپرست منتخب کیا گیا تھا، 1967ء میں جب حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی آمد ہوئی تو پھر آپ کو بھی سرپرست بنایا گیا۔ دو سال بعد جب حضرت مولانا ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی بطور سرپرست تجویز ہوا، لیکن جب دستور کے مطابق تین سرپرستان کی موجودگی میں کسی ایک کو سرپرست اعلی بنانا ضروری بن گیا تو اور اس کی اطلاع حضرت مولانا سید ابو الحسن ندویؒ تک پہنچی تو آپ نے مولانا ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ کو سرپرست اعلی بنانے کی تجویز دی، اور فرمایا کہ وہ مشغول آدمی ہیں، جامعہ کے معاملات کے لئے اس طرح فارغ نہیں ہوسکتے جس طرح مولانا ابرار الحق ؒ ہوسکتے ہیں۔ اور یہ کہ آپ کی سرپرستی ایک حقیقی سرپرستی ہوگی۔ حضرت مولانا کی اس تجویز پر حضرت مولانا ابر ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ کو جامعہ کا سرپرست اعلی منتخب کیا گیا۔ جس کے بعد حضرت مولانا علی میاںؒ کی یہ بات وقت کی کسوٹی پر درست ثابت ہوئی۔ جامعہ پر آپ کی سرپرستی برائے نام نہیں تھی، آپ کی سرپرستی کا اثر محسوس بھی ہوتا تھا۔ جامعہ کے معاملات میں آپ مستقلا ذمہ داران جامعہ سے ربط میں رہتے تھے،آپ کے لئے یہ نسبتا آسان بھی تھا، کیونکہ ڈاکٹر علی ملپا صاحب بانی وناظم جامعہ آپ سے بیعت وارشاد کا تعلق رکھتے تھے، اور ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں نیاز مندی کا مظاہرہ کرتے تھے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ بھٹکل کی دو شخصیات نے بھٹکل کے اس دور دراز قصبے کو شمالی ہند کے اکابر سے جوڑنے میں اہم کردار انجام دیا، ان میں سے ایک تھے ڈاکٹر علی ملپا مرحوم ، جن کے روابط اکابر وبزرگان سے نیاز مندانہ تھے۔وہ ان کے سامنے بچھے جاتے تھے، ان کا مزاج بزرگوں سے بحث ومباحثہ کے بجائے سرتسلیم خم کرنے کا تھا، دوسرے الحاج محی الدین منیری مرحوم تھے۔ وہ انتظامی آدمی تھے، تقسیم ہند سے قبل وہ جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ رہے تھے۔ اور تقسیم کے بعد انجمن خدام النبی ممبئی کے سکریٹری مقرر ہوئے تھے، اور اس زمانے میں جب کہ حج کے لئے کوٹہ سسٹم چلتا تھا، اور غیر ملکی اسفار کے لئے ٹکٹ ویزا وغیرہ کے بڑے گمبھیر مسائل پیش آتے تھے، تو منیری صاحب ان کے لئے معاون اور مداوا کی حیثیت رکھتے تھے۔ علماء واکابر کے روابط ان کے ساتھ نیازمندی سے زیادہ بے تکلفانہ اور دوستانہ ہوا کرتے تھے۔ لہذا آپ کو اکابر سے اپنی بات منوانے کا ہنر خوب آتا تھا۔
جامعہ کے قیام کے بعد بھٹکل کے ایک بڑے طبقہ کی خواہش تھی کہ جامعہ کی سند کا الحاق سرکاری اسکولوں کے ساتھ اس طرح کیا جائے کہ یہاں کے طلبہ دوران تعلیم جامعہ چھوڑ دیں تو ان کی تعلیم منقطع نہ ہونے پائے، انہیں سرکاری اسکولوں میں تعلیم جاری رکھنے کی سہولت مل جائے۔ منیری صاحب نے مولانا ابرار الحق ؒ سے خلوت میں یہ بات منوالی۔ اس زمانے میں جامعہ میں ایک ٹیچر تھے احمد نوری مرحوم، جو جماعت اسلامی کی فکر کی طرف مائل تھے، انہوں نے اس وقت جامعہ کے نوجوان اساتذہ کو سمجھایا کہ اس طرح جامعہ پر سرکار کا اثر ورسوخ بڑھ جائے گا، اور جامعہ اپنی شناخت کھودے گا۔ پھر ان اساتذہ نے مولانا ابرار الحق ؒ سے وقت لے کر بات چیت کی اور آپ کو اپنی سابقہ رائے بدلنے پر آمادہ کیا تھا۔
بھٹکل میں یوں تو دینداری عام تھی، علماء بھی پائے جاتے تھے، لیکن حفظ قرآن اور تجوید اور مخارج کا اہتمام نہ ہونے کے برابر تھا۔
الحاج منیری صاحب جنہوں نے سنہ 1919ء کو اس دنیا میں آنکھیں کھولی تھی ۔ بتاتے تھے کہ عرب نژاد نوائط برادری کی ہندوستان میں اولین آبادی جسے ابن بطوطہ نے سلطنت ہنور سے تعبیر کیا ہے اس نے آٹھویں صدی ہجری میں یہاں پر (22) دینی تعلیم کے مکاتب کی موجودگی کی رپورٹ دی ہے۔ اور بتایا ہے کہ یہاں کی سبھی عورتیں حافظ قرآن تھیں۔
لیکن جب منیری صاحب نے بیسویں صدی کے آغاز میں اس برادری میں آنکھیں کھولیں تو یہاں کوئی حافظ قرآن نہیں پایا جاتا تھا، وہ کہتے تھے کہ اس وقت یہاں مشہور تھا کہ سلطان محلہ کے سیدبو گھر میں ایک بزرگ کو زیادہ تر قرآن مجید ازبر یاد تھا۔ منیری صاحب نے اس احساس کے تحت کوششیں تیز کیں، آپ کی توجہات اور کوششوں سے بھٹکل کو 1955 کے آس پاس اولیں قاری و حافظ قرآن مولانا محمد اقبال موٹیا کی شکل میں میسر ہوا۔ چونکہ آپ کا گھرانہ ممبئی میں آباد تھا، اور آپ طالب علمی کے دور سے گذر رہے تھے، لہذا حفظ قرآن کے بعد کے ابتدائی سالوں میں آپ نے تراویح ممبئی ہی میں سنائی، البتہ 1960ء کی دہائی میں وقتا فوقتا آپ بھٹکل کی مساجد کو بھی فیض یاب کرتے رہے۔ ندوے سے آپ کی فضیلت 1963ء کے اواخر میں ہوئی تھی۔ جس کے معاً بعد آپ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں تدریس سے وابستہ ہوئے تھے۔
حافظ اقبال کے زیر اثر ان کے ایک عزیر ابراہیم رکن الدین شیپائی نے حفظ قرآن مکمل کیا تھا، لیکن وہ تعلیم وتدریس کے میدان سے وابستہ نہ رہ سکے، ممکن ہے انہوں نے ایک آدھ بار مرتبہ تراویح میں قرآن پاک سنایا ہو۔
حافظ اقبال صاحب نے جب جامعہ میں پڑھانا شروع کیا، اور دو ایک سال بعد یہ جامع مسجد منتقل ہوا تو پھر آپ کے زیر سرپرستی حافظ عبد الغنی رکن الدین، اور حافظ عبد القادر ڈانگی نے (جنہوں نے بھٹکل کے پڑوسی قصبہ تینگن گنڈی میں مدرسہ تحفیظ القرآن کی بنا ڈالی ہے ) حفظ قرآن کا سلسلہ شروع کیا۔ لیکن عمومی طور پر حفظ قرآن کے سلسلے میں اہل قصبہ کی کوئی خاص سرگرمیاں محسوس نہیں کی گئیں۔ اس کا سبب معتمد اول مولانا عبد الحمید ندوی کی جامعہ سے علیحدگی سے رونما ہونے والی بحرانی کیفیت بھی ہوسکتا ہے۔
بھٹکل میں تجوید ومخارج سے اہتمام کا حال بھی پتلا ہی تھا، ممبئی میں تلاش معاش سے وابستہ اس وقت کے نوجوان محمد اقبال دامدا ابو، ان کے بھائی عبد القادر دامدا ابو، ڈاکٹر سید قاسم پیرزادے وغیرہ نے قاری موصلے، اور قاری محمد اسماعیل کاپرے سے یہ علم حاصل کرنا شروع کیا تھا، ان میں سے اول الذکر محمد اقبال دامدا ابو کے ساتھ قاری لقب لگتا تھا۔اس کے علاوہ حکیم عبد اللہ حاجی فقیہ صاحب کو کہتے سنا کہ وہ بھی سند یافتہ قاری ہیں ۔لیکن یہ روشنی اندھیری رات میں ٹمٹناتے جگنؤوں کی مانند تھی۔
حضرت مولانا ابرار الحق علیہ الرحمۃ جب پہلی مرتبہ تشریف لائے تھے تو جامعہ مولانا عبد الحمید ندوی کے فراق کا زخم جھیل رہا تھا، غیر عالم کارگزارمہتممین پر جامعہ کا تعلیمی وتربیتی نظام چل رہا تھا،جب آپ دوسری مرتبہ تشریف لائے تو جامعہ میں ٹہراؤ آنا شروع ہوگیا تھا، اس وقت مولانا ارشاد علی ندوی مرحوم جامعہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ مولانا ابرار الحق ؒنے اپنے پہلے سفر میں حفظ قرآن اور تجوید ومخارج کی تصحیح کی تحریک کا جو خواب دکھا یا تھا، اب اس کی تعبیر کا وقت آگیا تھا۔ مولانا کے ارادت مندوں کا بھٹکل میں ایک اچھا خاصا حلقہ پیدا ہوگیا تھا، ناظم جامعہ کے ساتھ ساتھ مہتمم جامعہ سمیت دوسرے کئی بھٹکلی افراد بھی اس حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے تھے۔تب اشرف المدارس ہردوئی میں بھی دینی تعلیم اور حفظ قرآن کے لئے بھٹکلی طلبہ کے جانے کا سلسلہ شروع ہوا، اور اس میدان میں ایک ہلچل سے ہونے لگی، یہاں تک کہ آپ کی دعاؤں سے سلطان مسجد بھٹکل میں ایک مبارک تقریب منعقد ہوئی، جس میں باقاعدہ جامعہ کے ماتحت شعبہ حفظ کے قیام کا اعلان ہوا، حضرت نے اس وقت حفظ شروع کرنے والوں کو اپنے ہاتھ سے چاکلیٹ تقسیم کئے۔
اس مبارک مجلس میں جن نونہالوں نے حفظ قرآن کا ارادہ ظاہر کیا تھا ان خوش بختوں میں عبد الرحمن بن شمس الدین اکرمی، محمد زبیر بن حسن ملا،، نور المبین شینگیری، محمد عرفان بن احمد ملا، ریاض احمد بن احمد ملا کا نام شامل ہے۔ آخر الذکر دو بھائیوں کے علاوہ بقیہ سبھی بچوں کو اللہ تعالی نے حفظ قرآن مکمل کرنے کے توفیق دی۔
پھر فاروقی مسجد میں باقاعدہ حفظ قرآن کا شعبہ قائم ہوا، جس کے لئے مولانا عبد السمیع کامل مرحوم اور قاری جمیل احمد (حیدرآباد) کی تقرری عمل میں آئی۔ لیکن حفظ کے یہ اساتذہ زیادہ عرصہ بھٹکل میں نہ رہ سکے، کامل صاحب منگلور بندر کی جامع مسجد میں امام وخطیب بن کر چلے گئے۔ اسی طرح دوسرے استاد بھی رخصت ہوگئے۔
اسی دوران درسگاہ کے ساتھ ہی شعبہ حفظ بھی جامعہ آباد منتقل ہوگیا۔ یہاں پر ابتدا میں حفظ کے لئے حافظ اساتذہ کا فقدان تھا، لہذا دستیاب مدرسین ہی پر حفظ کے طلبہ کو تقسیم کیا گیا، اس دوران جن اساتذہ نے وقتا فوقتا یہ خدمات انجام دیں ان میں مولانا حافظ محمد رمضان ندوی، مولانا محمد صادق اکرمی ندوی قابل ذکر ہیں، تعطیلات میں عبد الرحمن خان ماسٹر بھی ان طلبہ سے وقتا فوقتا آموختہ سنتے تھے۔ اس طرح لشتم پشتم یہ درجہ چلتا رہا۔
اس دوران ابتدا میں جن طلبہ نے حفظ قرآن مکمل کیا ان اوائل میں حافظ عبد الرحمن اکرمی، حافظ محمد حسین اکرمی، اور حافظ محمد زبیر ملا اور حافظ عبد الحق منیری، حافظ نور المبین شینگری کا نام آتا ہے۔
ذمہ داران جامعہ کو حفظ قرآن کے درجہ کو منظم کرنے کی فکر دامنگیر تھی، مولانا شہباز اصلاحی مرحوم کو بھی اہتمام کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے دو تین سال گذر رہے تھے، اور ان کے روابط سرپرست اعلی حضرت مولانا ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ سے مضبوط ہوگئے تھے۔ مہتمم جامعہ کی کوشش تھی کہ سرپرست اعلی جامعہ ہی کی سرپرستی اور نگرانی میں جامعہ میں یہ شعبہ قائم ہو، جس کے لئے آپ نے کوششیں تیز کیں، شاید قبولیت کی گھڑی تھی، مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ سنہ 1977ء میں سرپرستان جامعہ حضرت مولانا سیدا بو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ سے لکھنو اور ہردوئی میں ملاقات کرکے آرہے تھے تو مولانا ابرار الحقؒ نے آپ کے ساتھ اشرف المدارس ہردوئی سے تکمیل حفظ کرنے والے ایک تجربہ کار مسترشد پیہانی کے حافظ کبیر الدین صاحب کو ہدایت کی کہ مولانا شہباز صاحب کے ساتھ تین ماہ کے لئے بھٹکل ہوآئیں، اور وہاں پر حفظ قرآن کا درجہ منظم کرنے کی کوشش کریں۔ سالانہ امتحان کے بعد آپ کی واپسی ہوئی تو آپ کو اتنی دور مسافت طے کرکے بھٹکل جانے کا داعیہ پیدا نہیں ہوا، اور آپ نے نئے سال 1978ء میں واپسی کا ارادہ نہیں کیا، مولانا ابرار الحق صاحب نے آپ کو تعطیلات کے بعد دوبارہ پانچ چھ ماہ کے لئے بھٹکل جانے پر آمادہ کیا ، اب کی بار حافظ صاحب نے پانچ چھ ماہ کے بجائے تسلسل کے ساتھ پینتیس سال سے زیادہ عرصہ یہاں گذار دیا، اس پوری مدت میں تعطیلات کے علاوہ وہ اہل وعیال کے بغیر تنہا جامعہ میں رہے، اس دوران شمالی ہند کے کئی ساتھی انہیں چھوڑ کر چلے گئے، لیکن بھٹکل کے بادو باراں میں مضبوط جڑوں پر قائم کسی اونچے ایک درخت کی طرح اس سرزمین سے آپ جڑے رہے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔ آج بھٹکل میں حفظ قرآن کی جو بہار نظر آرہی ہے ، اوراس کی جو روشنی چاروں طرف پھیل رہی ہے ،کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس روشنی کو تیز کرنے اور اسے بھٹکل کے چار سو پھیلانے میں حضرت مولانا ابرار الحق علیہ الرحمۃ کی سرپرستی اور حافظ کبیر الدین صاحب کی قربانیوں کا بڑا اثر ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بھٹکل میں حفظ قرآن کی موجود صورت حال پر مختصر سی روشنی ڈالی جائے۔
اس وقت جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے علاوہ مدرسہ تحفیظ القرآن بھٹکل و تینگن گنڈی ، مجلس احیاء المدارس، علی پبلک اسکول، شمس انگلش اسکول، جامعۃ الصالحات بھٹکل، شبینہ مکاتب، اسپورٹس کلبوں وغیرہ میں حفظ قرآن کا نظام پھیلاہوا ہے۔
جامعہ میں اندازا (414) بچے حفظ کررہے ہیں، جملہ یہی تعداد دوسرے اسکولوں اور مراکز میں ہے۔
حفظ میں زیر تعلیم بچیوں کی تعداد انداز (799) ہے۔
بھٹکل میں مرد حفاظ کی تعداد( 963) ہے ، اور حافظات (مستورات) کی تعداد (1755) ہے۔ یہ تعداد کا ایک تخمینہ ہے، جس میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ حضرت مولانا ابرار الحق علیہ الرحمۃ کی بھٹکل آمد کے بعد گذشتہ نصف صدی کے دوران تجوید، قراءت اور حفظ قرآن کے میدان میں کتنا بڑا انقلاب پیدا ہوا ہے، اور دو چار سے بڑھ کر یہ تعداد کہاں تک پہنچ چکی ہے۔
بقیہ اگلی قسط میں




